Wednesday, 27 February 2019

مظفر آباد سیکٹر کے راستے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی ،بھارتی سیکریٹری خارجہ صحافیوں کے سوالات پر بوکھلاگئے،حیرت انگیزردعمل


نئی دہلی(این این آئی)بھارتی سیکرٹری خارجہ وجے گھوکلے نے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی پر میڈیا بریفنگ دی تاہم صحافیوں کے سوالات کے شور میں صرف اپنی بات کہہ کر اٹھ کر چلے گئے۔بھارتی ٹی وی کے مطابق بھارتی سیکرٹری خارجہ وجے گھوکلے نے بھارتی فضائیہ کی جانب سے مظفر آباد سیکٹر کے راستے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی سے متعلق مختصر ترین بریفنگ میںبیان پڑھ کر سنایا۔انہوں نے کنٹرول لائن کی فضائی خلاف ورزی کا جواز یہ بتایا کہ مزید خودکش حملے سے بچنے کیلئے پیشگی حملہ ضروری ہوگیا تھا، وجے گھوکلے نے تین چار منٹ تک گفتگو کی اور بیان ختم ہوتے ہی صحافیوں کے سولات کے جواب دیے بغیر اٹھ گئے۔صحافیوں کے سوالات کا شور اٹھتا رہااور انکی جانب سے یہ کہا گیا کہ صرف اس بیان پر اکتفا کریں سوالات کی کوئی گنجائش نہیں۔

ہندوستان کی جانب سے رات کی تاریکی میں جارحانہ حملہ ، ہمارے دفاعی ادارے ہوائی حملے سے کیوں غافل رہے؟مولانافضل الرحمان نے بڑا مطالبہ کردیا


لاڑکانہ(این این آئی)جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے ہندوستان کی جانب سے رات کی تاریکی میں کئے گئے جارحانہ حملے کو بزدلانہ اور شرم ناک عمل قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ ملک کی دفاعی قوتیں چوکس ہوجائیں،ملکی سرحدوں کی حفاظت کریں ، قوم آپ کے شانہ بشانہ ہے ،اقوام متحدہ و دیگر بین الاقوامی ادارے اور ان کے قوانین کہاں ہیں ، ہمارے دفاعی ادارے ہوائی حملے سے کیوں غافل رہے، فی الفور پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے اورقومی سلامتی کے ادارے پارلیمنٹ میں آکر جواب دیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ اسلامیہ لاڑکانہ دودائی روڈ میں ختم بخاری کی پروقار تقریب سے خطاب کے دوران کیا ، اس موقع پر مولانا امجد خان ، مولانا راشد محمود سومرو ،قاری محمد عثمان، ،مولانا عبدالقیوم ہالیجوی، علامہ ناصر خالد محمود سومرو ، مولانا عبداللہ مہر سومرانی، محمد اسلم غوری، عبدالرزاق عابد لاکھو، مولانا عبداللہ جرارپہوڑ، مولانا رمضان پھلپوٹو، سمیع سواتی،حذیفہ شاکر،مولانا محبت کھوڑو و دیگر بھی موجود تھے ۔اس موقع پر مولانا فضل الرحمن نے تقریب میں 51 علما کرام اور 57 حفاظ کرام کی دستار دستاربندی کی،مولانا فضل الرحمن نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں دعا گو ہوں کہ مشکل کی اس گھڑی میں اللہ پاک ملک کی سلامتی کی دفاعی اداروں کو ملکی سالمیت کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا کرے، جمعیت علما اسلام کا ایک ایک کارکن وطن عزیز پر جان قربان کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں اور پاک فوج کے شانہ بشانہ ہیں ،مولانا فضل الرحمن نے مزید کہا کہ جمیعت علما اسلام اور متحدہ مجلس عمل کی جانب سے ملین مارچ کا سلسلہ جاری ہے، 28 مارچ کو ڈیرہ مراد جمالی میں ناموس رسالت ملین مارچ میں بلوچستان سے لاکھوں لوگ شریک ہوں گے ۔انہوں نے کہا کہ ملین مارچ کا مقصد پاکستان کی اسلامی نظریات کا تحفظ کرنا ہے، اسلامی نظریات کی شہ رگ کو کاٹنے والے حکمرانوں کے ہاتھ کاٹ دینگے، مولانا فضل الرحمن نے فارغ التحصیل علما اور حفاظ کرام کو مبارکباد بھی پیش کی ۔

پاکستان کی طرف سے جارحیت کا جواب دینے پر بھارتی جنگی جنون جھاگ کی طرح بیٹھ گیا،حیرت انگیز اعلان


اسلام آباد(آن لائن) بھارتی سفارتی مشن کے سربراہ نے کہا ہے کہ ہمارا کشیدگی بڑھانے کا کوئی ارادہ نہیں۔بھارتی سفارتی مشن کے سربراہ کا بیان پاکستان کی جانب سے بھارت کی جارحیت کا جواب دینے کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ بھارت کا جنگی جنون جھاگ کی طرح بیٹھ گیا ہے۔ اپنے ایک بیان میں بھا ر تی سفارتی مشن سربراہ نے کہا کہ ہم ذمہ داری کا مظاہرہ کریں گے جبکہ بھارت نے عالمی سفارتی مشنز کو بھی آگاہ کر دیا ہے۔واضح رہے بھارتی جنگی طیاروں نےلائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی تھی جس پر پاک فضائیہ کے طیاروں نے فوری جوابی کارروائی کی اور بھارتی طیاروں کو واپس جانے پر مجبور کردیا۔ بدحواس بھارتی طیارے اپنا پے لوڈ گرا کر فرار ہوگئے۔بھارتی میڈیا کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ بھارتی طیاروں نے پاکستان میں جاکر بھر پور کارروائی کی ہے جس کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے میڈیا بریفنگ دی اور کہا کہ بھارت ہمارے جواب کا انتظار کرے۔ اس بیان کے بعد بھارتی سفارتی مشن کے سربراہ کا بیان آیا جو ثابت کرتا ہے کہ بھارت پاکستان سے جنگ کرنے کے صرف دعویٰ ہی کرسکتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ پاک افواج دنیا کی بہترین افواج میں شمار کی جاتی ہے جس کا مقابلہ کرنا آسان نہیں۔دوسری جانب حیران کن بات یہ ہے کہ بھارت کی جانب سے نام نہاد سرجیکل اسٹرائیک کے بعد نام نہاد ائیراسٹرائیک کا پول بھی اس وقت کھل گیا جب بھارتی وزارت دفاع بھارتی ائیرفورس کی ائیرسٹرائیک سے ہی لاعلم نکلی۔بھارتی وزارت دفاع نے اپنے طیاروں کی بزدلانہ کارروائی پر لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس ائیراسٹرائیک کی کوئی اطلاع ہی نہیں ہے۔ترجمان بھارتی وزارت دفاع نے کہا کہ انہیں پاکستان کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات کا کوئی علم نہیں ہے کہ بھارتی طیاروں نے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی بھی کی ہے یا نہیں۔

بھارت نے جتنا جھوٹ بولنا تھا بول دیا‘ اب پاکستان کی باری ہے اور پاکستان انڈیا کو سرپرائز دے کر رہے گا، پاکستان انڈیا کو کیا کیا‘ کیسا کیسا اور کہاں کہاں سرپرائز دے سکتا ہے،جاوید چودھری کا تجزیہ


خواتین وحضرات ۔۔ پاکستان اور پاکستانی یہ دونوں انتہائی دلچسپ ہیں‘ ہم منقسم لوگ ہیں‘ ہم سندھی‘ بلوچی‘ پشتون‘ پنجابی‘ گلگتی اور کشمیریوں میں تقسیم ہیں‘ ہمارے درمیان مہاجر اور مقامی کی لکیر بھی (موجود) ہے اور ہم شیعہ‘ سنی‘ وہابی‘ اہل حدیث اور بریلوی میں بھی منقسم ہیں‘ ہم پیپلز پارٹی‘ ن لیگ‘ جے یو آئی‘ ایم کیو ایم اور تحریک انصاف میں بھی تقسیم ہیں اور ہم میں امیر‘ غریب اور انتہائی غریب کی تقسیم بھی (موجود) ہے لیکن جب بھی ملک کے بات آتی ہے توپورے ملک میں کوئی تقسیم‘ کوئی ڈیوائیڈ نہیں ہوتی‘ ہم صرف اورصرف پاکستانی ہوتے ہیں‘ آج بھی یہی ہوا‘ آج بھارتی طیاروں نے پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کی اور ۔۔اس کے ساتھ ہی ملک میں موجود تمام لکیریں‘ تمام اختلافات ختم ہو گئے‘ 21 کروڑ لوگ پاکستانی ہو گئے’’ قومی اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن نے بھارت کی جانب سے سرحدی حدوں کی خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امن کی خراہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے ، اگر مجبور کیا گیا تو بھارت کے ایک ہزار ٹکڑے کر نے کی صلاحیت رکھتے ہیں ،پوری قوم افواج پاکستان کی پشت پر ہے، ملکی یکجہتی کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا، بھارت کو مدعو کر نے پر او آئی سی کے اجلاس کا بائیکاٹ کر ناچاہیے ،قومی سلامتی کے معاملے پر تمام اختلافات کو پست پشت ڈا ل کر پوری قوم کو متحد ہو کر پیغام دینا چاہیے،مودی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکی ہے، پاکستان کشمیری عوام کی حمایت جاری رکھے گا،ہمیں جنگوں سے نہ ڈرایا جائے، ملکی دفاع اور سالمیت کیلئے پوری قوم متحد اور متفق ہے، پاکستان کی طرف کسی نے میلی آنکھ سے دیکھا تو منہ توڑ جواب دیا جائیگا،پارلیمنٹ مباحثے کا فورم نہیں ، اجتماعی دانش کا مرکز ہے، عوام کے عزم سے ہی حساس معاملات کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے، بھارت نے آگ سے کھیلنے کی کوشش کی تو صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا‘‘میرا نریندر مودی کو مشورہ ہے یہ دیکھ لے آج سے ۔۔اس ملک کی ہوائیں‘ ۔۔اس ملک کے پرندے‘ ۔۔اس ملک میں برستی بارشیں اور ۔۔اس ملک میں ابھرتے ڈوبتے سورج بھی ایک ہیں‘ آج سے یہ ملک 21 کروڑ فوجیوں کا ملک ہے اور ۔۔اس کا ہر فرد لڑنے‘ مرنے اور مارنے کیلئے تیار ہے‘ یہ قوم تو کرکٹ بھی جنگ کی طرح کھیلتی ہے جبکہ انڈیا ۔۔اس کے ساتھ جنگ جنگ کھیلنا چاہتا ہے‘ یہ کیسے کھیلے گا‘ یہ کیسے لڑے گا‘ انڈیا نے جو کرنا تھا کر دیا‘ ۔۔اس نے جتنا جھوٹ بولنا تھا بول دیا‘اب پاکستان کی باری ہے اور پاکستان انڈیا کو سرپرائز دے کر رہے گا ’’ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے بھارت کے 21منٹ تک پاکستانی حدود میں رہنے کے بے بنیاد دعویٰ کومسترد کرتے ہوئے چیلنج کیا ہے کہ آئیں 21منٹ تک پاکستان کی فضائی حدود میں رہ کر دکھائیں،ہمارا جواب مختلف ہو گا ،بھارت ہمارے سرپرائز کا انتظار کرے،اگر پاکستانی حدود میں کوئی کارروائی ہوتی تو لاشیں ہوتیں، عمارتوں کا ملبہ اور زخمیوں یا مارے جانے والوں کا خون ہوتالیکن جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے ،بھارت کے طیاروں کو ایل او سی میں پاکستانی حدود میں آنے اور باہر جانے میں مجموعی طور پر 4 منٹ لگے‘‘ پاکستان انڈیا کو کیا کیا‘ کیسا کیسا اور کہاں کہاں سرپرائز دے سکتا ہے‘ یہ ہمارا آج کا ایشو ہوگا جبکہ حکومت نے کل پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بھی بلا لیا ہے اور نیشنل کمانڈاتھارٹی کی میٹنگ بھی‘ کیا نریندر مودی اپنے الیکشن کیلئے ۔۔اس خطے کو خدانخواستہ خدانخواستہ ایٹمی جنگ تک لے آئیں گے‘ ہم یہ بھی ڈسکس کریں گے‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔

بھارتی طیاروں کا ہدف کچھ اور تھا ،آئیں اور دیکھ لیں جہاں چار بم گرائے گئے وہاں کیا ہے؟،پاک فوج نے بھارتی سیاستدانوں اور میڈیا کو بھی دعوت دیدی



راولپنڈی(این این آئی) پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ بھارتی طیاروں کا ہدف کچھ اور تھا جو پاک فضائیہ کے باعث حاصل نہ کر سکے، علاقے میں کسی کے جانے پر پابندی نہیں (آج)بدھ کو میڈیا کو لیکر جائینگے۔ منگل کو میڈیا سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہاکہ بھارتی طیاروں کا ہدف کچھ اور تھا جو وہ پاک فضائیہ کے باعث حاصل نہ کر سکے ۔ انہوں نے کہاکہ4بھارتی طیارے 4ناٹیکل مائلزاندرآئے تھے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ اس علاقےمیں کسی کے جانے پر پابندی نہیں (آج)بدھ کو میڈیا کو لیکر جائینگے ۔انہوں نے کہاکہ بھارتی سیاستدانوں اور میڈیا سے کہتا ہوں کہ آئیں بالا کوٹ آکر خود حقیقت دیکھ لیں۔انہوں نے کہا کہ جہاں چار بم گرائے گئے وہاں جیش محمد کا کوئی مدرسہ نہیں ۔ انہوں نے کہاکہ بھارت ہمیں اپنی حرکتوں سے متحد کر دیتا ہے ،جنگ کے لیے جذبات سے زیادہ جذبہ ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ہماری قومی سیاسی قیادت،فوج اورعوام متحدہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ رسپانس کسی بھی صورت میں کسی بھی وقت ہو سکتا ہے۔

Friday, 22 February 2019

پاکستان کی مخالفت میں نوازشریف کا انٹرویو بھارت نے کلبھوشن کے دفاع میں عالمی عدالت انصاف میں پیش کردیا،انتہائی افسوسناک انکشافات


دی ہیگ (آن لائن) عالمی عدالت انصاف میں بھارت نے پاکستان کے قومی مفادات کے خلاف سابق وزیراعظم نواز شریف کا ’’ڈان‘‘ اؔ خبار کو دیا گیا انٹر ویو کو اپنے دفاع میں سامنے لایا ہے۔ عالمی عدالت انصاف بھارتی دہشتگرد اور جاسوس کلبھوشن کے مقدمہ کی سماعت کر رہی ہے۔یہ مقدمہ پاکستان کے خلاف بھارت نے دائر کر رکھا ہے بھارت کے وکیل نے دوران سماعت عالمی عدالت انصاف کے ججوں کے سامنے اپنے دلائل دیتے ہوئے اخبار ’’ڈان ‘‘ کو نواز شریف کے انٹر ویو کی کاپی بطور دفاع ثبوت کے طور پر پیش کی اور اپنے دلائل
میں کہا کہ سابق وزیراعظم پاکستان نواز شریف نے تسلیم کر رکھا ہے کہ ممبی حملوں میں پاکستان کے غیرریاستی عناصر ملوث تھے پاکستان کے سابق وزیراعظم کے ا عتراف کے بعد حکومت پاکستان نے ممبئی حملوں میں ملوث سویلین لوگوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ہے بھارتی وکیل نے کہا کہ نواز شریف کے بیان کے بعد ثابت ہوا بھارت میں دہشتگردی کے واقعہ میں پاکستان ملوث ہے کیونکہ حکومت پاکستان نے دہشتگردوں کو سرحد پار کرنے سے نہیں روکا اگر پاکستان دہشتگردوں کو روکتا تو 16 ممالک کے 150 افراد دہشتگردی کی بھینٹ نہ چڑھتے۔ نواز شریف نے انٹر ویو ایک ایسے وقت میں دیا تھا جب بھارت نے عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن کی رہائی کا مقدمہ دائر کررکھا تھا ۔ عالمی عدالت انصاف میں نواز شریف کے انٹر ویو کے حوالہ کی اطلاع پر پاکستان میں ایک طوفان پیدا ہو گیا ہے اور سوشل میڈیا پر نواز شریف مخالف تبصرے شروع ہو چکے ہیں نواز شریف کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ وہ بھارت کے لئے ہمدردیاں رکھتے تھے۔ بھارت کے وزیراعظم مودی بھی نواز شریف کی نواسی کی شادی میں شرکت کے لئے بھی جاتی امراء لاہور پہنچ گئے تھے اور مسلمانوں کے قاتل مودی کو نوازشریف نے اپنے گھر میں ٹھہرایا تھا ۔

مجھے چالیس فٹ نیچے چھلانگ مار کر مر جانا تو منظور ہے لیکن تیری نافرمانی نہیں


بنی اسرائیل میں ایک نوجوان تھا بہت خوبصورت اور نہایت پاک باز، وہ نوجوان ٹوپیاں اور ٹوکریاں بنا کر بیچتا تھا، ایک دن بازار میں ٹوپیاں بیچتے بیچتے بادشاہ کے محل کی طرف نکل پڑا، محل میں ایک حسین شہزادی کی اس پر نظر پڑی تو اس نے اپنی خادمہ کو بھیج کر اس نوجوان کو بلوا لیا، نوجوان نے سمجھا کہ شاید شہزادی صاحبہ نے کچھ خریدنا ہے وہ خادمہ کے ساتھ محل میں داخل ہوا تو خادمہ دروازہ بند کرکے باہر سے چلی گئی اور شہزادی برہنہ حالت میں سامنے آگئی اور بولی اے حسین نوجوان میرے قریب
آ اور میری خواہش پوری کرو۔نوجوان نے کہا کہ اے شہزادی اس رب سے ڈر جو بڑا بے نیاز ہے، شہزادی نہ مانی اور دھمکی دینے لگ پڑی کہ اگر تو نے میری تسکین پوری نہ کی تو میں بادشاہ سلامت کے پاس شور مچاتی اسی حالت میں جاؤں گی اور کہوں گی کہ اس نوجوان نے میری عزت زبردستی لوٹنے کی کوشش کی ہے۔ اب نوجوان بڑا پریشان ہوا اور کچھ سوچ کر بولا اچھا مجھے نہانے کی اجازت دی جائے تا کہ میں صاف ستھرا ہو جاؤں، شہزادی بولی ٹھیک ہے پر تم نے یہاں نہیں نہانا، کیوں کہ تم بھاگ جاؤگے، تم اس خادمہ کے ساتھ چالیس فٹ اوپر محل کی چھت پر جا کر نہاؤ۔ نوجوان مان گیا اور اوپر چلا گیا وہاں جا کر جو اس نے دیکھا کہ اب کیا کروں تو اس کے ذہن میں اس کے سوا کوئی اور حل نہ آیا کہ چالیس فٹ سے چھلانگ ہی لگا دی جائے، اس نے چھلانگ لگاتے وقت دعا پڑی۔ اے اللہ پاک مجھے تیری نافرمانی پر مجبور کیا جا رہا ہے اور میں اس برائی سے بچنا چاہتا ہوں، مجھے چالیس فٹ نیچے چھلانگ مار کر مر جانا تو منظور ہے لیکن تیری نافرمانی نہیں۔ یہ کہہ کر نوجوان نے چھلانگ مار دی، اسی وقت ایک فرشتے کو باری تعالیٰ سے حکم جاری ہوا کہ جاؤ، اس نوجوان کو بچاؤ، فرشتے نے اس نوجوان کو اپنے پروں میں سما لیا اور آرام سے نیچے اتار لیا۔ نوجوان بڑا خوش ہوا اور اسی وقت شکرانے کے نفل ادا کیے اور بارگاہ الہی میں عرض کی کہ ’’مولا تو چاہے تو مجھے اپنے اس کام سے بے نیاز کروا سکتا ہے، اے رب مجھے تو کچھ عنایت کر تاکہ میں آرام سے بیٹھ کر کھا بھی سکوں اور تیری عبادت بھی کر سکوں،اس کی درخواست قبول ہوئی اور وہی فرشتہ جس نے اس کو بچایا، اس نے ایک سونے سے بھری بوری لا دی۔ عظیم نوجوان نے پھر سجدہ شکر ادا کیا اور بولا اے میرے پروردگار یہ جو سونا اسی رزق کا حصہ ہے جو مجھے دنیا میں ملنا تھا تو اس میں برکت فرما اور اگر یہ اس اجر کا حصہ ہے جو مجھے آخرت میں ملنا ہے اور اس کی وجہ سے میرے آخرت کے اجر میں کمی ہوگی تو مجھے یہ دولت نہیں چاہیے۔ نوجوان کو ایک غائبانہ آواز آئی یہ جو سونا تجھے عطاء کیا گیا ہے اس صبر کا سترواں حصہ ہے جو تو نے اس گناہ سے بچنے کے لیے کیا۔ اس نوجوان نے کہا اے میرے مالک مجھے ایسے خزانے کی حاجت نہیں جو آخرت میں میرے اجر میں کمی کا باعث بنے۔ چناچہ نوجوان نے جب یہ بات کہی تو سارا سونا اسی وقت غائب ہوگیا۔

Tuesday, 19 February 2019

ہو سکتا ہے


وہ دونوں میاں بیوی صوفے پربیٹھ کر ٹیلی ویژن دیکھ رہے تھے‘بیوی کا موبائل درمیان میں پڑا تھا‘ فون کی گھنٹی بند تھی‘ خاوند کی نظر اچانک فون پر پڑی تو سکرین پر ایک نام جل بجھ رہا تھا‘ یہ کسی خاتون کا نام تھا‘ خاوند نے بیوی سے کہا ”تمہارا فون آ رہا ہے“ بیوی نے سکرین پر نظر ڈالی اور فون سنے بغیر کال کاٹ دی۔ خاوند نے پوچھا ”کس کا فون تھا“ بیوی نے جواب دیا ”میری پرانی سہیلی ہے“ خاوند نے پوچھا ”تم نے فون کیوں نہیں اٹھایا“ بیوی نے جواب دیا ”میں ٹی وی دیکھ رہی ہوں‘ بعد میں اسے خود فون کر لوں گی۔
خاوند بیوی کے جواب سے مطمئن نہیں ہوا‘ اس نے بیوی کے ہاتھ سے فون چھینا اور
اس نمبر پر کال کر دی‘بیوی نے خاوند کے ہاتھ سے فون چھیننے کی کوشش کی لیکن خاوند صوفے سے اٹھ کر دور کھڑا ہو گیا‘ فون کی گھنٹی بج رہی تھی‘کال ملی اوردوسری طرف سے ایک پرجوش مردانہ آواز سنائی دی ”واہ آج ہمارا مقدر ہی جاگ گیا“۔ مردانہ آواز سن کر خاوند کے ماتھے پر پسینہ آ گیا جبکہ بیوی پریشانی کے عالم میں صوفے پر بیٹھ گئی‘ خاوند نے غصے سے پوچھا ”تم کون ہو؟“ دوسری طرف چند لمحوں کیلئے خاموشی چھا گئی‘ خاوند نے اس سے دوسری مرتبہ پوچھا ”تم کون ہو“ دوسری طرف سے ایک لمبی سانس کی آواز آئی اور وہ بولا ”آپ اپنی بیوی سے پوچھ لیں‘ یہ مجھے اچھی طرح جانتی ہیں“ خاوند کے غصے میں اضافہ ہو گیا اور اس نے فون پر موجود شخص کو گالیاں دینا شروع کر دیں‘ دوسری طرف کبھی خاموشی ہوجاتی اورکبھی قہقہوں کی آوازآنے لگتی‘ یہ گفتگو دس‘ پندرہ منٹ تک جاری رہی‘ اس کے بعد خاوند نے فون بند کیا اور بیوی کو مکوں اور ٹھڈوں سے مارنا شروع کر دیا‘ بیوی چیختی چلاتی رہی‘ خاوند سے بات سننے کی درخواست کرتی رہی لیکن خاوند کا غصہ آسمان کو چھو رہا تھا‘ اس دوران بیوی نے اٹھ کر بھاگنے کی کوشش کی‘ اس کا پاؤں رپٹا‘ وہ شیشے کی میز پر گری‘ میز ٹوٹی اور شیشے کا بارہ انچ کا ایک ٹکڑا اس کے سینے میں پیوست ہوگیا‘خاوند بیوی کو تڑپتے ہوئے دیکھ کر پریشان ہو گیا‘ اس نے بیوی کو اٹھایا‘ گاڑی میں ڈالا اور ہسپتال کی طرف دوڑ پڑا لیکن بیوی راستے ہی میں دم توڑ گئی‘ دوپہر کو بچے سکول سے واپس آئے تو ان کی ماں دنیا سے رخصت ہو چکی تھی اور والد تھانے میں بند تھا۔
خاتون کے مرنے کے بعد جب اس ٹیلی فون کال کے بارے میں تحقیقات ہوئیں تو معلوم ہوا وہ نمبر مقتولہ کی ایک سہیلی بشریٰ کا تھا‘ بشریٰ دو سال کیلئے ملک سے باہر چلی گئی‘ اس دوران وہ نمبر بند رہا‘ سفر کے دوران بشریٰ کی سم بھی گم ہو گئی‘ اس عرصے میں موبائل کمپنی نے یہ نمبر کسی دوسرے شخص کو الاٹ کر دیا‘ بشریٰ واپس آئی توا س نے نیا نمبر لے لیا‘ اس خاتون کی سہیلی نے اسے بشریٰ کی واپسی کی اطلاع دی تو اس نے بشریٰ کے پرانے نمبر پر فون کر دیا‘ خاتون کا فون کسی مرد نے اٹھایا‘
اس نے اس سے بشریٰ کے بارے میں پوچھا تو اس نے جواب دیا ”میں بشریٰ کا خاوند ہوں‘ وہ باتھ روم میں ہے‘ وہ باہر آ جاتی ہے تومیں آپ کی اس سے بات کرا دوں گا‘آپ اس دوران میرے ساتھ بات چیت کر لیں“۔ خاتون نے اس صاحب کو بشریٰ کا خاوند سمجھ کر بات چیت شروع کر دی‘ یہ بات چیت دس پندرہ منٹ تک جاری رہی‘ اس دوران خاتون جب بھی بشریٰ کے بارے میں پوچھتی وہ اسے بتاتا وہ ابھی باتھ روم سے باہر نہیں آئی‘وہ ایک آدھ منٹ میں آ جائے گی۔ آپ اپنے بارے میں بتائیے اور گفتگو کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو جاتا۔
پندرہ منٹ بعد ان صاحب نے اس سے کہا ”وہ ابھی تک باتھ روم میں ہے‘ وہ باہر آتی ہے تو میں آپ کی بات کرادوں گا“ یوں فون بند ہو گیا۔ آدھ گھنٹے بعد اسی صاحب کا دوبارہ فون آیا‘ اس نے بشریٰ سے بات کرانے کا کہا اور کوئی بہانہ بنا کر خاتون سے گفتگو شروع کر دی‘ اس گفتگو کے دوران خاتون کو معاملہ مشکوک محسوس ہوا اور اس نے سختی سے اس شخص سے کہا ”بشریٰ کو بلائیں“ صاحب نے قہقہہ لگایا اور بولا ”یہاں کوئی بشریٰ نہیں ہوتی‘ آپ بشیر سے بات کر لیں“ خاتون نے فون بند کر دیا لیکن وہ صاحب باز نہیں آئے۔
وہ دن میں دس‘ پندرہ مرتبہ اسے فون کرتے‘ خاتون فون ”اگنور“کرتی رہتی لیکن دن میں ایک آدھ فون اٹھا کر اس صاحب سے جان چھڑانے کی کوشش کرتی لیکن وہ صاحب باز نہ آئے۔ یہاں پر سوال پیدا ہوتا ہے اس خاتون نے اپنے خاوند کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا‘ اس کی دو وجوہات تھیں۔ پہلی وجہ‘ اس کا خاوند ذرا شکی مزاج تھا‘ خاتون کا خیال تھا وہ اپنے خاوند سے بات کرے گی تو وہ الٹا اس پر شک شروع کر دے گا۔ دوسری وجہ‘ بیوی کو خطرہ تھا اس کا خاوند کہیں اس سے موبائل واپس نہ لے لے
 یہ فون اس کی بیمار ماں اور اس کے درمیان واحد رابطہ تھا‘ اس کی والدہ دوسرے شہر میں رہتی تھی اور شدید علیل تھی اور وہ فون کے ذریعے اس کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتی تھی‘ خاتون موبائل کمپنی کو فون کر کے وہ نمبربھی بلاک کرا سکتی تھی لیکن فون اس کے خاوند کے نام پر تھا اور موبائل کمپنیاں اس وقت تک اپنے گاہکوں کی شکایت پر عمل نہیں کرتیں جب تک موبائل کا اصل مالک ان سے رابطہ نہیں کرتا چنانچہ خاتون کے پاس خاموشی کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔
موبائل میں یہ نمبر بشریٰ کے نام سے ”سیو“ تھا اور پھر وہ دن آ گیا‘ اس دن اس کا خاوند دفتر نہیں گیا تھا‘ وہ دونوں میاں بیوی بچوں کو سکول بھجوا کر ٹی وی دیکھ رہے تھے اور اس دوران اس شخص نے فون کر دیا اور یوں یہ حادثہ ہو گیا۔ اس حادثے کے بعد جب اس شخص سے رابطہ کیا گیا تو پتہ چلا وہ یونیورسٹی کا ایک عام سا طالب علم ہے‘ اس نے یہ نمبر کسی سے خریدا تھا‘ فون استعمال کرنے کے چند دن بعد اسے یہ کال ریسیو ہوگئی اور اس نے چانس لینے کا فیصلہ کر لیا‘
اس نے بتایا یونیورسٹی کے زیادہ تر طالب علم یہی کرتے ہیں‘ یہ مختلف نمبر ڈائیل کرتے رہتے ہیں‘ اس دوران اگر ان کا رابطہ کسی خاتون یا لڑکی سے ہو جائے تو یہ مختلف بہانوں سے اس سے گفتگو شروع کر دیتے ہیں‘ یہ کبھی کسی بینک کے نمائندے بن کر انہیں کریڈٹ کارڈ کے فوائد بتانا شروع کر دیتے ہیں‘ کبھی انہیں لون پر گاڑی خریدنے کی ترغیب دیتے ہیں اور کبھی اکاؤنٹ کھولنے کا مشورہ دیتے ہیں اور مشوروں کے دوران خواتین کے ساتھ فری ہونا شروع کر دیتے ہیں‘
یہ کبھی کسی میک اپ برانڈ کا نمائندہ بھی بن جاتے ہیں اور کبھی کچن کی مشینری بیچنے والی کمپنی کے ترجمان بھی اور یوں گفتگو کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے‘ ان کے موبائل پر اگر کبھی کسی خاتون کی رانگ کال آ جائے تو بھی یہ پورا پورا چانس لینے کی کوشش کرتے ہیں‘ اس چانس کے دوران بعض اوقات ان کا کام بن جاتاہے اور یہ ”کام“ بعدازاں بے شمار لفنگے طالب علموں کیلئے ترغیب کا باعث بنتا ہے‘ اس قسم کی سرگرمیوں میں طالب علموں کے علاوہ بے شمار مرد بھی ”انوالو“ ہیں۔
یہ بھی دن میں دس‘ بیس‘ پچاس ”ایس ایم ایس“ پھینکتے ہیں‘ یہ ان ایس ایم ایس کو ”کنڈیاں“ کہتے ہیں اور اگر کسی ایک کنڈی میں کوئی مچھلی پھنس جائے تو یہ بھی کامیابی کی ایک لمبی چوڑی کہانی بن جاتی ہے اور اس کہانی کی بنیاد پر بعدازاں دوسرے مرد بھی کنڈیاں پھینکنا شروع کر دیتے ہیں‘ یہ کام اس وقت سائنسی بنیادوں پربھی چل رہا ہے‘ ملک میں بلیک میلرز کے بے شمار گینگز کام کر رہے ہیں‘ یہ لوگ چار پانچ سو سمیں خریدتے ہیں‘ یہ سمیں پڑھے لکھے مردوں اور عورتوں میں تقسیم کر دی جاتی ہیں۔
یہ عورتیں اور مرد کنڈیاں ڈالتے ہیں‘ ان کنڈیوں میں مچھلیاں پھنس جائیں توان خواتین اور مردوں کو ملاقات کیلئے بلایا جاتا ہے اور اس ملاقات کے دوران ”مچھلیوں“ کی تصویریں اور فلمیں بنا لی جاتی ہیں اور اس کے بعد بلیک میلنگ کا ایک لمبا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے جس کے آخر میں تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ میں واپس اس کہانی کی طرف آتا ہوں۔ وہ بیچاری خاتون بلاوجہ اس مسئلے میں الجھ گئی تھی‘ وہ خاوند سے ڈرتی تھی اور اس ڈر کے دوران یہ حادثہ پیش آ گیا‘ اگر خاتون اپنے خاوند کو اعتماد میں لے لیتی یا پھر خاوند فون پر گفتگو کے بعد اس سے آرام سے پوچھ لیتا تو شائد اتنا بڑا حادثہ پیش نہ آتا
لیکن ہم لوگ بعض اوقات اپنے شک اور اپنے خوف کو اتنا بڑھا دیتے ہیں کہ یہ آخر میں ہماری جان لے لیتا ہے۔ یہ واقعہ آپ کے ساتھ بھی پیش آ سکتا ہے کیونکہ اب موبائل کے مضر اثرات ہمارے معاشرے میں دکھائی دینے لگے ہیں لیکن آپ سے درخواست ہے اگر یہ واقعہ آپ کے ساتھ پیش آئے تو آپ دوسرے فریق کو اپنی صفائی کا موقع ضرور دیجئے گا‘ ہو سکتا ہے آپ کے گھر کی خاتون واقعی بے گناہ ہو‘ وہ آپ کی مدد کی طلب گار ہو مگر آپ محض شک کی وجہ سے اپنا گھر برباد کر بیٹھیں۔

لڑکا بن کرشادیاں کرنے والی بھارتی لڑکی گرفتا


اتر کھنڈ (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں جہیز کے حصول کیلئے دو شادیاں رچانے والی لڑکی پکڑی گئی، ملزمہ نے پہلی بیوی کے گھر والوں سے ساڑھے آٹھ لاکھ روپے بھی بٹورے، جہیز کم لگا تو اس پر تشدد بھی کیا۔تفصیلات کے مطابق بھارتی لڑکی نے لڑکا بن کر ایک نہیں بلکہ دو شادیاں رچا ڈالیں، شمالی اترپردیش میں بیوی کی مار پیٹ کی شکایت پر پولیس نے شوہر کو گرفتار کیا تو پولیس کی مار پڑنے سے پہلے ہی شوہر بول پڑا کہ وہ لڑکی

دنیا کی خوش قسمت ترین لڑکی جس کے پیدا ہوتے ہی والدین کروڑ پتی بن گئے


لندن(این این آئی) کہا جاتا ہے کہ بچے اپنا رزق ساتھ لے کر آتے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو پھر یہ لڑکی دنیا کی خوش قسمت ترین بچی ہو گی جو اپنے ساتھ اتنی خطیر رقم لائی کہ ماں باپ کو بھی مالا مال کر دیا۔اینڈریو سائمز اور نتالی میکاف نامی اس میاں بیوی نے یورو ملینز لاٹری کا ٹکٹ خرید رکھا تھا جو گزشتہ دنوں عین اس روز کارگر ثابت ہوا جس روز ان کے ہاں بیٹی نے جنم لیا اور وہ10لاکھ پاؤنڈ (تقریباً 17کروڑ 94لاکھ روپے) کی لاٹری جیت گئے۔برسٹل کے رہائشی اینڈریو اور نتالی کا کہنا ہے کہ’’ہمارے لیے ہماری بیٹی پاپی بہت خوش قسمت ثابت ہوئی ہے۔ ہمارے لیے لاٹری جیتنے کی خوشی کا اس سے بہتر موقع اور کوئی نہیں ہو سکتا تھا۔بیٹی کی خوشی کے ساتھ اتنی بڑی رقم ملنے کے بعد ہم محسوس کر رہے ہیں جیسے ہمیں زندگی کی تمام خوشیاں مل گئیں ہوں۔ اب ہم ایک بہترین گھر خرید سکتے ہیں جہاں ہم اپنی بیٹی کی اچھے طریقے سے پرورش کریں گے۔ ‎

کلبھوشن کیس،پاکستان نے عالمی عدالت انصاف میں بھارتی چہرہ بے نقاب کردیا


دی ہیگ(این این آئی)عالمی عدالت انصاف نے کلبھوشن کیس میں متبادل ایڈہاک جج کی تقرری کیلئے اپیل مسترد کردی۔عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن یادیو سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ۔ایڈہاک جج جسٹس (ر) تصدق جیلانی ناسازی طبع کے باعث عدالت نہیں آئے۔ پاکستان کے اٹارنی جنرل انور منصور نے تصدق حسین جیلانی کی علالت کے باعث متبادل ایڈہاک جج کی تقرری کی اپیل کی۔عالمی عدالت کی جانب سے پاکستان کی اپیل رد کئے جانے کے بعد اٹارنی جنرل انور منصور نے دلائل دینا شروع کئے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ پاکستان میں ہونے والے کئی دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی بھارت میں کی جاتی ہے، اسی تناظر میں پاکستان میں بھارت کے ایجنٹ کو گرفتار کیا گیا ہے۔ عدالت میں دیئے گئے اعترافی بیان اس بات کا ثبوت ہیں کہ کلبھوشن سے کسی دباؤ کے بغیر بیان لیا گیا۔ پاکستان واضح کرنا چاہتا ہے ہم تمام زیرالتوا مسائل کا پرْامن حل چاہتے ہیں۔پاکستان کے وکیل خاور قریشی نے کہا کہ بھارت جھوٹ کی کمزور دیوار پر بیٹھا ہے، وہ سچائی کا راستہ روکنے کے لیے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرتا ہے، ایک طرف بھارت نے عالمی عدالت سے رجوع کیا ہے تو دوسری طرف پاکستان کے سوال کا جواب دینے سے بھارت تحریری انکار کر چکا، بھارت نے کلبھوشن کی شہریت کاہی اعتراف نہیں کیا تو قونصلر رسائی کا مطالبہ کیسے کرسکتا ہے۔گزشتہ روز بھارتی وکیل ہریش سالوے نے اپنے دلائل میں موقف اختیار کیا تھا کہ کلبھوشن یادیو کیس مبالغہ آمیز معلومات پر مبنی ہے، عالمی عدالت انصاف کلبھوشن کی رہائی کا حکم دے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ عدالت انسانی حقوق کو حقیقت میں تبدیل کرکے دکھائے۔پاکستان اور بھارتی وکلاء کے دلائل کے بعد بحث و جرح کا آغاز ہوگا۔20 فروری کو بھارت جب کہ جمعرات 21 فروری کو پاکستانی وکیل بحث کریں گے۔ کلبھوشن یادیو کیس کی جرح کی مکمل کارروائی بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی ویب سائٹ پر براہِ راست نشر کی جارہی ہے۔واضح رہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے جاسوس کلبھوشن یادیو کو مارچ 2016 میں بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا، بھارتی نیوی کے حاضر سروس افسر نے پاکستان میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں کا اعتراف کیا تھا جس پر پاکستان کی فوجی عدالت نے کلبھوشن کو سزائے موت سنائی جاچکی ہے۔

20ارب ڈالرز کے معاہدے،پاکستانی قیدیوں کی رہائی،عمران خان کی بڑی کامیابی ہے ،لیکن یہ بھی سچ ہے دنیا میں کوئی لنچ فری نہیں ہوتا‘ سعودی عرب اس مہربانی پر پاکستان سے کیا توقع رکھے گا؟سعودی وزیر خارجہ نے پاکستانی سرزمین پر بیٹھ کر ایران کے بارے میں کیا کہا؟جاوید چودھری کاتجزیہ


سعودی عرب کے ولی عہد پرنس محمد بن سلمان کا دو روزہ دورہ ختم ہو گیا‘ اس دورے سے پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کا نیا دور شروع ہو گا‘ 20 ارب ڈالرز کے تجارتی ایم اویوز بھی سائن ہوئے اور ولی عہد نے عمران خان کی قیادت کی تعریف بھی کیاور پاکستان کو 2030ء تک بڑی معاشی طاقت بھی ڈکلیئر کیا‘ یہ دورہ عمران خان کی حکومت کی ایک بڑی معاشی اچیومنٹ ہے لیکن اس سے بھی بڑی اچیومنٹ سعودی جیلوں میں بند 2 ہزار ایک سو سات پاکستانیوں کی رہائی ہے ، یہ عمران خان کی بڑی کامیابی ہے اور ہم اس کامیابی پر حکومت کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔سعودی عرب نے اس دورے کے دوران پیٹرو کیمیکل ‘ معدنی وسائل‘توانائی‘ سٹینڈرڈائزیشن ‘ کھیلوں اور سی پیک میں 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے ایم او یوز سائن کئے‘ سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کی مدد کی‘ یہ اس بار بھی یقیناًہماری مدد کرے گا لیکن یہ بھی سچ ہے دنیا میں کوئی لنچ فری نہیں ہوتا‘ سعودی عرب اس مہربانی پر پاکستان سے کیا توقع رکھے گا‘ یہ سوال بہت اہم ہے کیونکہ آج سعودی وزیر خارجہ نے پاکستانی سرزمین پر بیٹھ کر ایران کے بارے میں جو کچھ کہا پاکستان اس پر خاصا پریشان ہے ، ہمیں اس لنچ کی کیا قیمت ادا کرنا پڑے گی اور پاکستان کو کہیں سعودی مہربانیوں کے جواب میں اپنے ہمسائے ایران کو ناراض تو نہیں کرنا پڑ جائے گا‘ یہ ہمارا آج کا ایشو ہو گا‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔

پاکستان کے خلاف کیے جانے والے ’’ڈرامے‘‘ کا ڈراپ سین، پلوامہ حملے میں کس ملک کا بارودی مواد استعمال کیاگیا؟ بھارتی جنرل نے بڑا اعتراف کر لیا


نئی دہلی (این این آئی) مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں غاصب بھارتی فوج پر کارخودکش حملے کے بعد پاکستان پر بھارتی الزامات کی حقیقت پر خود بھارتی جنرل نے سوالات کھڑے کردیئے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق سابق بھارتی فوجی کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل (ر) دیپندرا سنگھ ہوڈا نے اعتراف کیا ہے کہ پلوامہ حملے میں بھارت کا ہی بارود استعمال کیا گیا۔غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق بھارتی فوجی افسر نے کہا کہ یہ ممکن نہیں کہ اتنی بڑی مقدار میں بارود دراندازی کرکے اتنی دور لایا جاسکے کیونکہ حملے میں 750 پاؤنڈ بارود استعمال کیا گیا تھا۔لیفٹیننٹ جنرل (ر) ڈی ایس ہوڈا نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ اس حملے کے بعد گہری سوچ بچار کے ساتھ تمام حقائق کا جائزہ لیا جائے گا اور اس پر غور کیا جائے کہ کشمیر کے مسئلے کے مستقل حل کیلئے کیا کیا جا سکتا ہے۔دوسری جانب معروف بھارتی سماجی و مذہبی رہنما سوامی اگنی ویش نے بھی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ایک مخصوص جماعت حالات خراب کرنے پر تلی ہوئی ہے تاکہ آئندہ پارلیمانی انتخابات میں ووٹ بٹورسکے۔ انہوں نے کہاکہ مودی نے سرجیکل اسٹرائیک اور فوجیوں کو اپنے سیاسی مقصد کیلئے استعمال کیا ہے اور مخصوص جماعت ووٹ لینے کیلئے لوگوں کے جذبات کا استحصال کررہی ہے۔ سوامی اگنی ویش نے کہا کہ کشمیری تاجروں اور طلباء پر حملے کرنے والے بھارت کے خیرخواہ نہیں ہیں بلکہ ان کے اپنے مفادات ہیں۔   مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں غاصب بھارتی فوج پر کارخودکش حملے کے بعد پاکستان پر بھارتی الزامات کی حقیقت پر خود بھارتی جنرل نے سوالات کھڑے کردیئے۔

بیرون ملک روانگی کا باضابطہ اعلان کر دیا گیا


لاہور(آن لائن)حمزہ شہباز شریف کے بعد اپوزیشن لیڈر اور صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف نے بھی لندن جانے کی تیاری کر لی۔شہباز شریف لندن میں زیر علاج اپنی پوتی کی تیماداری کی غرض سے لندن جا رہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق صدر مسلم لیگ ن میاں شہباز شریف بیرون ملک روانہ ہو رہے ہیں۔شہبازشریف کل لاہورسے لندن کے لیے روانہ ہونگے۔شہبازشریف اپنی پوتی ،حمزہ شہباز کی بیٹی کی خیریت دریافت کرنیلندن روانہ ہوں گے۔حمزہ شہباز کی بیٹی کادل کی تکلیف کیباعث پچھلیہفتےآپریشن کیاگیا تھا تاہم اس آپریشن کے باوجود بچی کی حالت تشویشناک ہے اور لندن کے اسپتال میں آئی سی یو میں زیر علاج ہیں۔واضح ہو کہ حمزہ شہباز شریف بھی عدالت کی خصوصی اجازت ملنے پرلندن چلے گئے تھے۔دوسری جانب شہباز شریف بھی ضمانت پر رہائی ملنے کے بعد لندن روانہ ہو رہے ہیں۔واضح ہو کہ گزشتہ ہفتے حمزہ شہباز کی اہلیہ نے لندن کے ہسپتال میں بیٹی کو جنم دیا تھا۔ ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ نومولود بچی عارضہ قلب میں مبتلاہے۔ ڈاکٹرز نے والدین کوبچی کاآپریشن کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے نومولود کو انتہائی نگہداشت یونٹ میں منتقل کردیا۔ڈاکٹرز کے مطابق انہوں نے پیدائش سے پہلے ہی نومولود میں عارضہ قلب کی تشخیص کر لی تھی اور خاندان کو بھی مطلع کردیا تھا۔حمزہ شہباز کو یہ خبر پہلے ہی مل چکی تھی تاہم وہ ای سی ایل میں شامل ہونے کے باعث لندن روانہ نہیں ہو سکے تھے۔حمزہ شہباز اور دیگر خاندان والے دعا گو ہیں کہ ڈاکٹروں کی کاوشیں رنگ لائیں اور بچی بخیر و عافیت اپنے گھر روانہ ہو۔ حمزہ شہباز شریف کے بعد اپوزیشن لیڈر اور صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف نے بھی لندن جانے کی تیاری کر لی۔شہباز شریف لندن میں زیر علاج اپنی پوتی کی تیماداری کی غرض سے لندن جا رہے ہیں۔ صدر مسلم لیگ ن میاں شہباز شریف بیرون ملک روانہ ہو رہے ہیں۔شہبازشریف کل لاہورسے لندن کے لیے روانہ ہونگے۔

سعودی عرب رواں مالی سال ہی پاکستان کو گرانٹ اور قرض کی مد میں کتنے ارب ڈالرز مزید دے گا؟ وزارت خزانہ نے تفصیلات جاری کر دیں


اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سعودی عرب رواں مالی سال میں تجارتی معاہدوں کے علاوہ مختلف منصوبوں کے لیے گرانٹ اور قرض کی مد میں تقریباً آٹھ ارب روپے دے گا، ایک موقر قومی اخبار کی رپورٹ کے مطابق رقم رواں مالی سال میں ادا کی جائے گی۔ وزارت خزانہ کے اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال میں سات ارب 97کروڑ 86 لاکھ روپے ملیں گے، دسمبر تک سعودی عربنے پاکستان کو قرض کی مد میں دو ارب اکتیس کروڑ روپے ادا کیے ہیں،گرانٹ کی مد میں 5ارب 47کروڑ 96 روپے اور قرض کی مد میں 2 ارب49 کروڑ 90 لاکھ روپے دینے ہیں، رپورٹ کے مطابق گرانٹ کی پانچ ارب 47کروڑ 96 روپے کی مد میں ابھی تک کوئی رقم جاری نہیں کی گئی ہے، سعودی عرب 30جون 2019ء تک 18 کروڑ 90 لاکھ روپے دے گا۔

random post

random post

ٹوائلٹ پیپر کے سرچ میں پاکستانی پرچم سامنے آنے کا کوئی ثبوت نہیں ملا،حقیقت کیا ہے؟ گوگل کی وضاحتیں


کیلیفورنیا (آن لائن) گوگل نے کہا ہے کہ بیسٹ آف دی ٹوائلٹ پیپر کے سرچ میں پاکستانی پرچم سامنے آنے کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے تاہم اس بارے میں مزید تحقیقات جاری ہیں۔گوگل نے پاکستانی پرچم کی خبر میڈیا پر آنے کے بعد وضاحت پیش کر دی۔گوگل ترجمان کے مطابق معاملے کی تحقیق جاری ہے تاہم ہماری سرچ میں کوئی بھی اس طرح کا معاملہ سامنے نہیں آیا ہے۔انہوں نے کہا کہ رپورٹ ہونے والی خبروں میں پرانے اسکرین شارٹس لگائے گئے ہیں جس سے کسی تازہ واقعہ کا ثبوت نہیں ملتا۔ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ گوگل نے کچھ سرچ کرنے پر غیر معمولی نتائج دکھایا ہو۔ ماضی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارت وزیر اعظم نریندر مودی کے نام بھی کچھ بدنام نتائج کے ساتھ منسلک تھے۔گوگل پر سرچ کے دوران کئی تصاویر ان خبروں سے متعلق ہی ہیں جو اس ربط کے حوالے سے ہیں جب کہ کئی میں ان سوشل میڈیا پوسٹس کے اسکرین شاٹس ہیں جن میں پاکستانی پرچم اور ٹوائلٹ پیپر ایک ساتھ دکھائے گئے ہیں۔مختلف میڈیا نے گزشتہ روز رپورٹ کیا کہ پلوامہ حملے کے بعد گوگل پر ایک ہیکنگ کارروائی ہوئی جس کے بعد گوگل پر بیسٹ ٹوائلٹ پیپر ان دی ورلڈ سرچ کرنے پر پاکستانی پرچم کی تصاویر سامنے آنے لگی تھیں۔14 فروری کو مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے پلوامہ حملے کی ذمہ داری جیش محمد نے قبول کی تھی اور اس حملے میں 40 بھارتی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔اس دھماکے کے بعد پاکستان اور بھارتی شہریوں کے درمیان سائبر جنگ شروع ہو گئی۔ ہندوستانی ہیکرز کی جانب سے پاکستان کی 50 سے زائد ویب سائٹس ہیک کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے جن میں سندھ حکومت کی جنگلات کی ویب سائٹ بھی شامل ہے۔ٹوائلٹ پیپر کے الفاظ اور پاکستانی پرچم کا یہ ربط 14 فروری کے حملے کے بعد شروع ہوا جب چند بلاگز میں اس کا ذکر کیا گیا اور ہفتے کے اختتام پر یہ موضوع سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کرتا رہا۔