Sunday, 17 March 2019

سائنسدانوں نے ایک 18سال کی لڑکی کے 9ہزار سال پرانے ڈھانچے سے اسکا چہرہ بنا ڈالا،یہ کیسی دکھائی دیتی تھی،دیکھ کر آپ بھی دنگ رہ جائینگ


اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) یونان کی ایک غار سے سائنسدانوں کو کچھ عرصہ قبل 18سالہ لڑکی کا 9ہزار سال پرانا ڈھانچہ ملا تھا جس سے انہوں نے اب اس کا چہرہ بنا ڈالا ہے اور یہ لڑکی کیسی دکھائی دیتی ہے؟ دیکھ کر آپ بھی چونک اٹھیں گے۔نیشنل جیوگرافک کی رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ ”اس لڑکی کا نام ایوگی (Avgi)تھا اور کسی نے آج سے لگ بھگ 9ہزار سال قبل آخری بار اس کا چہرہ دیکھا ہو گا جب یہ یونان میں زندہ تھی۔ ا اب لوگ ایک بار پھر اس کا چہرہ دیکھ رہے ہیں۔“ایوگی کے ڈھانچے سے سائنسدانوں نے اس کی جو تصویر بنائی اس میں وہ خوبصورت اور تنومند خاتون دکھائی دے رہی ہے۔ اس کے چہرے کی ہڈیاں نسبتاً ابھری ہوئی، گھنی بھنویں اور ڈمپل والی ٹھوڑی ہے۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ”ایوگی 7ہزار قبل مسیح کے زمانے میں یونان میں زندہ تھی۔۔واضح رہے کہ ایوگی کے معنی طلوع آفتاب یا زمانے کی شروعات کے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سائنسدانوں نےاس کا یہ نام رکھا۔

کیا آپ کو OKکا مطلب معلوم ہے ؟جواب آپ کو حیران کر دے گا


نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک) اگر یہ کہا جائے کہ انگریزی لفظ OKدنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے الفاظ میں سے ایک ہے تو بے جا نہ ہو گا۔ بات بات پر OKبولتے ہو ئے آپ نے کبھی سوچا کہ اس کا مطلب کیا ہے ؟ دراصل یہ لفظ پرانی انگریزی کے دو الفاظ” Oll Korrect”کا مخفف ہے جن کا مطلب ہے “سب ٹھیک ہے”۔ انیسویں صدی کے وسط میں امریکی شہرو ںبوسٹن اور نیویارک میں غیر روایتی الفاظ کا استعمال عام تھا اور بڑے لفظوں کومختصر کر کے بولنا بہت پسند کیا جا تاتھا ۔اس دور میں” You know”کی جگہ KYاور” Oll wright”کی جگہ OW جیسے مخفف عام استعمال کئے جاتے تھے ۔اگرچہ ان میں سے اکثر مخفف وقت کے ساتھ ختم ہو گئے ،مگر ایک سیاستدان کی وجہ سے OKکا استعمال جاری رہا۔یہ سیاستدان وین بورین تھے جن کا عرف عام “Old Kinderhook”تھا اور ان کے ساتھی اور کارکن انہیں مختصر ًاOKکہتے تھے اورانہوں نے ایک OKکلب بھی بنارکھاتھا۔اگرچہ اس لفظ کا تعلق سیاست سے توختم ہو گیالیکن “سب ٹھیک ہے” یا” ٹھیک” کے معنوں میں اس کا استعمال اب بھی بڑے پیمانے پر کیا جاتا ہے ۔

سال کی وہ تاریخ جس میں شادی کرنے والوں کے درمیان جلد علیحدگی ہو جاتی ہے


کنبرا(مانیٹرنگ ڈیسک)ویلنٹائنز ڈے کی آمد آمد ہے۔ کچھ جوڑے ایسے بھی ہوتے ہیں جو اس روز شادی کرلیتے ہیں۔ ایسے جوڑوں کے لیے سائنسدانوں نے انتہائی سخت وارننگ جاری کر دی ہے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف میلبرن کے سائنسدانوں نے جدید تحقیق کے بعد نوجوان جوڑوں کو ہدایت کی ہے کہ کبھی بھی ویلنٹائنز ڈے پر شادی مت کریں کیونکہ اس روز ہونے والی شادی کے بہت جلد خاتمے سے دوچار ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔سائنسدانوں نے اس تحقیق کے لیے 11لاکھ شادیوں کا ڈیٹااکٹھا کیاجن میں 6فیصد ویلنٹائنز ڈے پر ہوئی تھیں۔ انہوں نے دونوں طرح کی شادیوں اور میاں بیوی کے تعلقات کا تجزیہ کرکے نتائج مرتب کیے جن میں معلوم ہوا کہ باقی سال میں ہونے والی شادیوں کی نسبت ویلنٹائنز ڈے پر ہونے والی شادیوں میں طلاق کی شرح 37فیصدزیادہ تھی۔ 14فروری کو ہونے والی شادیوں کے تین سال مکمل کرنے کی شرح بھی حیران کن طور پر 45فیصد کم تھی۔ سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ ”ویلنٹائنز ڈے پر شادی کرنے والوں کی ایک سال کے اندر طلاق ہوجانے کا امکان سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ “

کیا آپ جانتے ہیں کہ دنوں کے نام کب اور کیسے پڑے ؟ حیرت انگیز معلومات


اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ہفتہ فارسی لفظ ہفت (یعنی سات) سے نکلا ہے کیونکہ ہفتے میں سات دن شامل ہوتے ہیں۔ ہندی لفظ سپتاہ میں بھی یہی معنوی خصوصیت ہے کیونکہ سنسکرت میں ’’سپت‘‘ کے معنی سات ہوتے ہیں۔ قدیم دنیا کے قریباً سب ہی حصوں میں سات دن کے ہفتے کا تصور ہزاروں سال سے قائم ہے۔ اس کی دو خاص بنیادیں ہیں۔ ایک تو باہلی تصور جس میں چھ کے عدد کو خاص اہمیت حاصل تھی۔ کیونکہ ایک تو چھ ایک ایسا عدد ہے جس کا آدھا بھی کیا جا سکتا ہے اور تین حصے بھی۔ اس لحاظ سے وہ ان کے نظریے کے مطابق ایک مکمل عدد تھا اور اس میں حساب و کتاب کی سہولتوں کے علاوہ طلسمی تاثیر بھی تھی۔ حساب و کتاب میں بابلیوں نے چھ کو جو اہمیت دی اس کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ کسی دائرے کو اس کے نصف قطر سے چھے حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا تھا اور اسی بنیاد پر انہوں نے پورے دائرے میں 360 درجے کے زاویوں کو متعین کیا تھا اور کسی بھی اکائی کو ساٹھ حصوں میں تقسیم کرنے کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ زاویوں کا اس طرح شمار اور ایک گھنٹے کو ساٹھ منٹوں میں اور ہر منٹ کو ساٹھ سیکنڈوں میں اور ایسا ہی نقشوں کے زاویوں میں تقسیم کا طریقہ آج بھی رائج ہے۔ چنانچہ بابلیوں نے چھے دن کام کرنے کی روایت قائم کی اور اس کے بعد ایک دن عبادت اور آرام کے لئے رکھا گیا۔ اس طرح سات دن کے ایک ہفتے کو قبولیت حاصل ہوئی۔ پھر بابلیوں نے اجرام فلکی کے مطالعے میں خاص دلچسپی دکھائی اور انہوں نے سورج‘ چاند‘ عطارد‘ مریخ‘ زہرہ‘ مشتری اور زحل سات ستاروں کی علم نجوم میں اہمیت پر زور دیا اور ہفتے کے دنوں کو ان سے منسوب کیا۔ مصریوں نے بھی اسی عقیدے کو اپنے علم ہیئت کی بنیاد بنایا۔ مصریوں سے یونانیوں اور رومیوں نے اس روایت کو اختیار کیا۔ سات دن کے ایک ہفتے کی دوسری بنیاد یہودیوں کی کتابیں تھیں جن میں یہ بتایا گیا کہ خدا نے پوری کائنات کی تخلیق چھ دن میں کی اور ساتویں دن اس نے آرام کیا۔ اس ساتویں دن جسے یوم السبت کہا گیا سارے کام کی ممانعت کی گئی۔ اسلام میں بھی چھ دن کی تخلیق کو مانا گیا لیکن ساتواں دن (یعنی جمعہ) بڑے اجتماعات میں شامل ہو کر عبادت کرنے کا تو ہے لیکن خود کو کاروبار زندگی سے منقطع کر لینے اور لہوو لعب میں ضائع کرنے کا نہیں۔ اس طرح سات دن کا ہفتہ ماننے کی ایک مذہبی بنیاد بھی فراہم ہوئی۔ ان دو بنیادوں کا اثر ہفتے کے دنوں کے ناموں پر دکھائی دیتا ہے۔ کئی زبانوں میں ہفتے کے عام دنوں کے نام شمار کے اعتبار سے عددوں پر ہیں۔ عربی میں اتوار کو پہلا دن(یوم احد) کہتے ہوئے سلسلہ جمعرات کو پانچواں دن (یوم الخمیس) کہنے تک پہنچتا ہے۔ بھاشا انڈویشیا میں بھی ان دنوں کے یہی عربی نام ملتے ہیں ۔ فارسی میں سینچر کو شنبہ کہا جاتا ہے۔ ‘ اتوار کو یکشنبہ اور اسی قیاس پر دوسرے نام رکھتے ہوئے جمعرات کے لئے پنجشبہ تک پہنچتے ہیں‘ فارس میں اسلامی اثر پہنچنے سے قبل جمعے کو شش شنبہ کا نام دیا جاتا تھا۔ ترکی میں بھی بعض دنوں کے نام اسی کے مثل ہیں۔ یونانی میں بھی پیر کو دوسرا دن کہتے ہوئے جمعرات کو پانچ تک گنتی پہنچتی ہے۔ چینی میں پیر کو پہلا نمبر دیا جاتا ہے اور یہ سلسلہ سینچر کو چھٹے نمبر تک چلتا ہے۔ دنوں کو نام دینے کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ انہیں اجرام فلکی کے نام دیئے جائیں۔ ان میں اکثر سینچر کو زحل‘ اتوار کو سورج اور پیر کو چاند سے منسوب کرنے کا رواج ہے۔ باقی دنوں کے نام یا تو دوسرے سیاروں کے نام پر رکھے جاتے ہیں یا پھر کچھ دیوی دیوتاؤں وغیرہ کے نام پر۔ سنچر کو مسلم کیلنڈر میں ہفتے کا پہلا دن مانا جاتا ہے کیونکہ جمعے کو ہفتے کا سب سے متبرک دن کی حیثیت سے منایا جاتا ہے۔ اور اسلامی حکومت والے اکثر علاقوں میں جمعہ کے روز ہفتہ وار چھٹی رہتی ہے۔ اردو نام سنچر زحل ستارے سے اس دن کی نسبت کو ظاہر کرتا ہے۔ سنسکرت میں زیل کو شنی کہتے ہیں۔ ہندی میں اس دن کو زحل سے منسوب کرتے ہوئے شنیوار کہا جاتا ہے۔ فارسی میں سنچر کو شنبہ کہا جاتا ہے۔ فرہنگ آنند راج کے مطابق لفظ شنبہ پہلے شنبد تھا اور اس کے معنی گنبد کے تھے۔ کہا جاتا ہے روایتی ایرانی بادشاہ بہرام کور نے سات مقاموں پر سات گبند بنا رکھے تھے اور ہر گنبد کسی ستارے سے منسوب تھا۔ ہر روز بادشاہ‘ اس ستارے سے منسوب مخصوص پوشاک پہن کر اپنا دن اس دن سے تعلق رکھنے والے گنبد میں بسر کرتا تھا۔ اسی بنا پر ہر دن کو شنبد کہا جاتا تھا جو بعد میں شنبہ ہوگیا۔ شنبہ کو سنچر کے لئے مخصوص کیا گیا اور آگے دنوں کویکشنبہ (اتوار)‘ دو شنبہ (پیر)‘ سہ شنبہ (منگل)‘ چہار شنبہ (بدھ) اور پنجشنبہ (جمعرات ) کر دیا گیا۔ عربی میں سنچر کو یوم السبت کہتے ہیں جو عبرانی ’’شبات‘‘ کی شکل ہے۔ یہ عبرانی لفظ شابت سے مشتق ہے جس کے معنی آرام ہوتے ہیں۔ اس وقت دنیا کی کئی زبانوں میں سینچر کے لئے ’’سبت‘‘ سے مماثلت رکھنے والے نام رائج ہیں۔

Saturday, 16 March 2019

تصویر میں چھپا فرق تلاش کریں


کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) انٹرنیٹ پر زیر گردش تصاویر صارفین کو الجھا دیتی ہیں، ذہین افراد اپنی فطرت کے مطابق ان کا درست جواب تلاش کرنے میں بے حد دلچسپی ظاہر کرتے ہیں اسی طرح کی ایک تصویر انٹرنیٹ پر شیئر ہوئی جس میں چھپا فرق تلاش کرنے کا چلینج دیا گیا ہے۔ صارفین اچھی طرح سے واقف ہیں کہ ہم اُن کی دلچپسی کو دیکھتے ہر تھوڑے دن بعد نت نئی ذہنی آزمائشی تصویر لے کر آتے ہیں۔ انٹرنیٹ صارفین کی ذہانت کو جانچنے کے لیے نت نئی پہیلیاں سامنے لانے کا مقصد اُن کی ذہنی آزمائش کو جانچنا ہوتا ہے۔ اسی سلسلے کی کڑی میں ایک اور تصویر سامنے آئی کہ جس میں صارفین کو چیلنج دیا گیا ہے وہ درست جواب تلاش کریں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویری پہیلیاں آسان ہونے کے باوجود صارفین کو سر پکڑنے پر مجبور کرتی ہیں، زیر گردش تصویر میں ویسے 9 نمبر کا ہندسہ نظر آرہا ہے مگر ایک نمبر الگ ہے جسے تلاش کرنے کا صارفین کو چیلنج دیا گیا۔ تصویر میں موجود ایک ہندسہ ہے جو نظر آنے کے باوجود آسانی سے پکڑ میں نہیں آرہا۔ اگر آپ ذہین ہیں تو تصویر کو غور سے دیکھیں اور ایک منٹ کے اندر جواب تلاش کریں۔ کیا آپ ہندسہ تلاش کرنے میں کامیاب ہوئے؟ اگر نہیں تو اسکرول کریں اور درست جواب دیکھیں۔ غور سے دیکھنے پر آپ کو معلوم ہوگا کہ 12 نمبر کا چھٹا ہندسہ 9 نہیں بلکہ 6 ہے۔ کیا آپ درست جواب خود سے تلاش کرنے میں کامیاب ہوئے تھے؟ کمنٹس میں ضرور آگاہ کریں۔

سوشل میڈیا پر وائرل بالاکوٹ حملے میں 200افرادکی ہلاکت کے پاکستانی فوجی کے اعترافی بیان کی ویڈیو بھی جھوٹ نکلی،برطانوی میڈیا نے بھانڈا پھوڑ دیا


نئی دہلی(این این آئی) سوشل میڈیا پر وائرل بالاکوٹ حملے میں 200افرادکی ہلاکت کے پاکستانی فوجی کے اعترافی بیان کی ویڈیو بھی جھوٹ نکلی ،برطانوی نشریاتی ادارے نے بھارت میں گردش کرنیوالی ویڈیو کو جعلی اورجھوٹ کا پلندہ قراردیدیا ہے ۔ساتھ ہی سوالات بھی کیے ہیں کہ ویڈیو میں حقیقت کے برعکس شواہد کیوں ہیں ؟تاہم اس سلسلے میں بھارت کی جانب سے کوئی ردعمل نہیں آیا ہے ،برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک پاکستانی فوجی افسربالاکوٹ میں مبینہ بھارتی حملے کے بعد 200افرادکی ہلاکت کی تصدیق کررہا ہے تاہم برطانوی نشریاتی ادارے نے مکمل تحقیق کے بعد بتایا کہ ویڈیو میں نظر آنے والے پاکستانی فوجی افسر نے فضائی حملے میں ہونے والی 200 مبینہ ہلاکتوں کی تصدیق ہی نہیں کی۔برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ویڈیو میں فوجی افسر سے بات کرنے والے بوڑھے آدمی پشتو بول رہے ہیں جبکہ خیبر پختونخوا کے بالاکوٹ کے علاقے میں زیادہ تر ہندکو بولی جاتی ہے۔رپورٹ کے مطابق ویڈیو میں سنی جانے والی آواز 200 میں سے ایک شخص کی ہلاکت کی بات کر رہی ہے۔

نیوزی لینڈ مساجد حملہ، بنگلہ دیشی خاتون شوہر کو بچاتے ہوئے شہید ہوگئی


کرائسٹ چرچ (آن لائن) نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں مساجد پر حملہ کے دوران ایک بنگلہ دیشی خاتون بھی شوہر کو بچاتے ہوئے شہید ہوگئی۔نیوزی لینڈ کے تیسرے بڑے شہر کرائسٹ چرچ کی مسجد النور میں 15 مارچ کو ہونے والے دہشت گردی کے واقعے میں اب تک 49 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے جب کہ متعدد کے زخمی اور لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔اس واقعے نے دنیا بھر کے حساس دل لوگوں کو رلادیا اور کئی لوگ جاں بحق ہونے والے افراد کے اہل خانہ سے ہمدریاں کرتے دکھائی دیے۔مسجد پر حملہ کرنے والے چاروں دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا تھا جہاں حملے کے مرکزی ملزم 28 سالہ برینٹن ٹیرنٹ کو عدالت میں بھی پیش کیا گیا، جہاں ان پر قتل کے الزامات عائد کیے گئے۔حملے میں جہاں عمر رسیدہ افراد، کم سن اور نوجوان اور ادھیڑ عمر کے افراد جاں بحق ہوئے، وہیں کم سے کم ایک خاتون بھی جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔اس واقعے میں جاں بحق ہونے والی خاتون کی شناخت بنگلہ دیش کی 42 سالہ حسنیٰ آرا پروین کے نام سے ہوئی ہے جو دراصل اپنے مجازی خدا یعنی شوہر کو بچاتے ہوئے قاتل کی گولیوں کا نشانہ بنیں۔ نیوزی لینڈ ہیرالڈ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ 42 سالہ حسنیٰ آرا پروین اس وقت گولیوں کا شکار بنیں جب وہ فائرنگ کی آواز سن کر اپنے معذور شوہر کو بچانے کے لیے پہنچیں۔ رپورٹ میں بنگلہ دیش کی میڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ حسنیٰ آرا پروین کے شوہر فریدالدین احمد معذور ہیں اور وہ ویل چیئر کے سہارے چلتے پھرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق حسنیٰ آرا پروین النور مسجد کے خواتین کے سیکشن میں نماز کی ادائیگی کے لیے موجود تھیں کہ اچانک فائرنگ ہوئی اور وہ جلدی سے مرد حضرات کے سیکشن میں شوہر کی حفاظت کے لیے دوڑیں۔اپنے معذور شوہر کو گولیوں سے بچانے کے لیے دوڑ کر آنے والی حسنیٰ آرا پروین بدقسمتی سے قاتل کی اندھی گولیوں کا نشانہ بنیں اور موقع پر ہی چل بسیں۔بنگلہ دیش کی اخبار ’دی ڈیلی اسٹار‘ نے حسنیٰآرا پروین کے بھتیجے محفوظ چوہدری کے حوالے سے بتایا کہ بنگلہ دیشی نژاد خاتون شوہر کو بچاتے ہوئے ماری گئیں، تاہم ان کے شوہر محفوظ رہے۔ رپورٹ کے مطابق اتفاق سے فرید الدین احمد قاتل کی گولیوں سے زندگی کی بازی ہارنے سے بچ گئے، تاہم ان کی اہلیہ انہیں بچاتے بچاتے موت سے جا ملیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ حسنیٰ آرا پروین اپنے اہل خانہ سمیت 1994 میں بنگلہ دیش سے نیوزی لینڈ منتقل ہوئیں۔ حسنیٰ آرا پروین اور ان کے شوہر فرید الدین احمد ہر جمعے کو اسی مسجد میں نماز کی ادائگی کے لیے آتے تھے۔ حسنیٰ آرا پروین کی قربانی نے دنیا بھر کی خواتین کو جذباتی کردیا اور انہیں خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔

نیوزی لینڈ کی مسجد میں حملے کے دوران باپ نے اپنے بیٹوں کو بچا لیا لیکن کیسے؟پڑھ کر آپ کی بھی آنکھوں سے آنسو نکل پڑیں گے


بغداد(این این آئی)اماراتی ذرائع ابلاغ میں عراقی باشندے ادیب سامی کا قصہ زیر گردش رہا جو نیوزی لینڈ میں دو مساجد پر دہشت گرد حملوں میں اپنے دو بیٹوں کو بچاتے ہوئے زخمی ہو گیا۔ جمعے کے روز ہونے والے حملوں میں درجنوں افراد شہید اور زخمی ہوئے۔امارات کے انگریزی اخبار کے مطابق 52 سالہ سامی نیوزی لینڈ کا عراقی نژاد شہری ہے۔ وہ انجینئرنگ کنسلٹینسی کے شعبے میں متحدہ عرب امارات میںکام کرتا ہے۔ جمعے کے روز کرائسٹ چرچ کی ایک مسجد میں مسلح دہشت گرد نے داخل ہو کر اندھا دھند فائرنگ کی تو اس وقت سامی نے اپنے دو بیٹوں عبداللہ 29 برس اور علی (23) برس پر جھک کر ان کو ڈھانپ لیا۔اخبار کے مطابق ادیب سامی کی بیٹی ہبہ کا کہنا تھا کہ میرے والد حقیقی ہیرو ہیں۔ میرے بھائیوں کو بچاتے ہوئے انہیں کمر میں ریڑھ کی ہڈی کے نزدیک گولی لگی مگر میرے والد نے اپنے بیٹوں کو آنچ نہیں آنے دی۔

بیوی کی اخلاق باختہ تصاویر سوشل میڈیا پر ڈالنے والا پولیس افسر گرفتار،شرمناک انکشافات


لاہور(آن لائن) فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی( ایف آئی اے) سائبر کرائم ونگ نے ڈیفنس کے علاقے میں چھاپہ مار کر بیوی کی نازیبا ویڈیو اور تصاویر اپ لوڈ کرنے والے پولیس کے اعلی افسر جنید ارشد کو گرفتار کرلیا۔ذرائع کے مطابق ملزم جنید ارشد ایف آئی اے کو کافی عرصے سے مطلوب تھا مگر ایف آئی اے اسے گرفتار نہیں کر پا رہی تھی اسی بنا پر ملزم کو اشتہاری قرار دیتے ہوئے اس کی گرفتاری پر 5 لاکھ روپے کا انعام مقرر کردیا گیا تھا۔ایف آئی اے حکام کے مطابق ملزم جنید ارشد پر الزام ہے کہاس نے اپنی بیگم کی نازیبا تصاویر اور ویڈیو سوشل میڈیا پر شئیر کی تھیں۔ جنید ارشد کی بیوی اور بیٹی کی درخواست پر ایف آئی اے نے اس کیخلاف گزشتہ برس مقدمہ بھی درج کیا اور کیس کی سماعت کے دوران احاطہ عدالت سے فرار ہوگیا تھا ،جس پر عدالت نے اس کی ضمانت بھی منسوخ کر دی تھی، ایف آئی اے کے مطابق ملزم کو مقامی عدالت میں پیش کرکے جسمانی ریمانڈ لیا جائے گا۔واضح رہے کہ جنید ارشد پر جب مقدمہ درج ہوا وہ اس وقت ڈی آئی جی گلگت بلتستان کے عہدے پر فائز تھے۔

نیوزی لینڈکی خاتون وزیراعظم اظہار ہمدردری کیلئے مسلم خواتین کے پاس ایسا لباس پہن کرپہنچ گئیں کہ آپ بھی دنگ رہ جائینگے


کرائسٹ چرچ( آن لائن)نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈاآرڈرن نے کہا ہے کہ انسانیت سوز واقعے کے مرکزی ملزم کے پاس اسلحہ کا باقاعدہ لائسنس تھا اور وہ نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کی واچ لسٹ میں شامل نہیں تھا ۔واقعے سے پوری دنیا میں مسلم برادری کو شدید نقصان پہنچا ہے ،عالمی برادری کو امت مسلمہ کیساتھ اظہار یکجہتی کرنی چاہیے ۔۔ہفتہ کو ایک بیان میں وزیراعظم نیوزی لینڈ جیسنڈا آرڈرن نے کہا اب وقت آگیاہے اسلحہ قوانین تبدیل کئے جائیں، واقعے میں ملوث شخص کے پاس بندوق کالائسنس تھا۔انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا حکومت کیساتھ ملکرکام کر رہے ہیں،حملہ آورآسٹریلیااورنہ ہی نیوزی لینڈکی واچ لسٹ میں تھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ حملے کے فوری بعدپولیس نے کارروائی کی،حملہ آورپولیس کی تحویل میں ہے۔جیسنڈا آرڈرن کا کہنا ہے کہ متاثرہ کمیونٹی کی ہرممکن مدد کی جارہی ہے،ہماری پہلی ترجیح جاں بحق ہونیوالے افرادکی شناخت تھی،متاثرین کومالی پیکج دیاجائیگا۔انہوں نے کہا کہ پولیس کوکچھ چیلنجزدرپیش ہیں،اس لیے قانون سازی کریں گے۔خبر رساں ادارے کے مطابق وزیراعظم نیوزی لینڈ نے امت مسلمہ سے اظہار یکجہتی کیلئے سیاہ لباس پہن کر مسلم خواتین کو گلے لگایا اور کہا کہ واقعے سے پوری دنیا میں مسلم برادری کو شدید نقصان پہنچا ہے ،عالمی برادری کو امت مسلمہ کیساتھ اظہار یکجہتی کرنی چاہیے ۔

نیوزی لینڈ میں لاپتہ 9 پاکستانیوں کی فہرست جاری


اسلام آباد(اے این این ) دفتر خارجہ نے نیوزی لینڈ میں دہشت گردی کے واقعے کے بعد سے لاپتہ پاکستانیوں کی فہرست جاری کردی۔ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل کی جانب سے 9 پاکستانیوں کی فہرست جاری کی گئی ہے۔ترجمان نے بتایا کہ واقعے کے بعد سے ذیشان رضا اپنے والد اور والدہ سمیت لاپتہ ہیں۔اس کے علاوہ راولپنڈی کا رہائشی 40سالہ ہارون محمود، سہیل شاہد، سید اریب احمد اور سید جہانداد علی بھی لاپتہ افراد میں شامل ہیں۔ترجمان دفتر خارجہ نے مزید بتایا کہ ایبٹ آباد کے رہائشی نعیم رشید اور طلحہ نعیم بھی لاپتہ ہیں۔ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھا کہ نیوزی لینڈ میں پاکستانی ہائی کمیشن اس حوالے سے مزید تفصیلات اکٹھی کررہا ہے۔ترجمان نے بتایا کہ دہشت گردی کے واقعے میں ایک زخمی پاکستانی شہری کی شناخت67سالہ محمد امین کے نام سے ہوئی جو حافظ آباد کے رہائشی ہیں جب کہ محمد امین تشویشناک حالت میں آئی سی یو میں زیرِ علاج ہیں۔ترجمان کا کہنا ہے کہ نیوزی لینڈ میں ہمارا سفارتی مشن مزید تفصیلات لے رہا ہے۔دوسری جانب مقامی میڈیا نے دفتر خارجہ کی جانب سے لاپتہ قراردیئے گئے 9 پاکستانیوں میں سے نعیم راشد اورطلحہ نعیم کی شہادت کی تصدیق کی ہے۔ نعیم راشد حملہ آورسے مزاحمت کرتے ہوئے زخمی ہوئے تھے اور بعد میں انہوں نے اسپتال میں دم توڑ دیا تھا۔یاد رہے کہ گزشتہ روز آسٹریلوی دہشت گرد برینٹن ٹیرینٹ نے کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں نماز جمعہ کے دوران گھس کر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 50 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے۔ واقعے کے دوران پاکستانی شہری نعیم راشد نے بھی اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے دوسروں کی جان بچاتے ہوئے اپنی جان قربان کردی تھی۔

مسجد حملے کے بعداہم اسلامی ملک کی ٹیم کا دورہ نیوزی لینڈ ختم، کھلاڑیوں کو واپس بلا لیا گیا


کرائسٹ چرچ (این این آئی)نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی مسجد میں فائرنگ کے واقعے کے بعد نیوزی لینڈ اور بنگلادیش کی ٹیموں کے درمیان (آج) ہفتہ سے شروع ہونے والاا تیسرا اور آخری ٹیسٹ منسوخ کر نے کا فیصلہ کرلیا گیا ۔تفصیلات کے مطابق نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کے علاقے ڈینز ایونیو کی مسجد میں حملہ آور نے اس وقت فائرنگ کی جب نماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی جن میں بنگلادیش کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی بھی شامل تھے۔ فائرنگ کے واقعے میں تمام بنگلادیشی کرکٹرز محفوظ رہے جس کی تصدیق نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ نے بھی کی ۔ کیویز بورڈ نے واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے کرکٹ بورڈز نے باہمی رضا مندی سے (آج) ہفتہ کو کھیلا جانے والا ہیگلے اوول ٹیسٹ منسوخ کر نے کا فیصلہ کیاگیا ۔ کیویز بورڈ نے تصدیق کی کہ دونوں ٹیمیں اور سٹاف محفوظ ہے۔ ہیگلے اوول ٹیسٹ کی منسوخی کے بعد بنگلادیش کا دورہ نیوزی لینڈ بھی ختم ہوگیا جس کے بعد مہمان ٹیم نے واپسی کے انتظامات شروع کردئیے۔بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق کھلاڑی اس وقت کرائسٹ چرچ میں سخت پریشانی میں ہیں جن کی واپسی کے لیے سفری انتظامات ہنگامی بنیادوں پر کیے جا رہے ہیں۔

’’نماز جمعہ کیلئے ہماری ٹیم مسجد میں آئی ہوئی تھی ، فائرنگ سے ہم کیسے بچے ؟بنگلا دیشی کرکٹر مشفق الرحیم نے بتا دیا


کرائسٹ چرچ(این این آئی)جبکہ نیوزی لینڈ کے دورے پر آئی ہوئی بنگلا دیش کی کرکٹ ٹیم فائرنگ کی زد میں آنے سے بال بال بچ گئی ہے، جس کے کھلاڑی فائرنگ کے وقت نماز جمعہ ادا کرنے کے لیے مسجد آئے ہوئے تھے۔واقعے کے حوالے سے نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ نے کہاہے کہ دونوں ملکوں نیوزی لینڈ اور بنگلا دیش کے کھلاڑی محفوظ ہیں، اگلے لائحہ عمل کے لیے اتھارٹیز کے ساتھ کام رہے ہیں تاہم آج (ہفتہ کو)ہونیوالا ٹیسٹ میچ ملتویٰ کردیا گیا ہے بعدازاں نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیکینڈا آرڈرن نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ملکی تاریخ کا سیاہ ترین دن قرار دے دیتے ہوئے کہاہے کہ مسجد میںفائرنگ دہشت گردی ہے۔ادھرنیوزی لینڈ میں پاکستانی ہائی کمیشن نے بتایا ہے کہ کرائسٹ چرچ کی مسجد نور اور مسجد لنٹن میں فائرنگ کے واقعے میں کسی پاکستانی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جمعہ کو نیوزی لینڈ کی پولیس نے ایک بیان میں بتایاکہ فائرنگ کے واقعات کرائسٹ چرچ میں واقع مسجدِ نور اور مسجد لنٹن میں پیش آئے، جس میں مسلح افراد نے مساجد میں داخل ہو کر خودکار ہتھیاروں سے نمازیوں پر فائرنگ شروع کر دی۔انہوں نے کہاکہ مسجد میں ایک مسلح شخص داخل ہوا جس نے مشین گن سے فائرنگ کی، حملہ آور نے پنڈلیوں میں گولیوں سے بھرے میگزین باندھے ہوئے تھے۔نیوزی لینڈ کے دورے پر آئی ہوئی بنگلا دیش کی کرکٹ ٹیم فائرنگ کی زد میں آنے سے بال بال بچ گئی ہے، جس کے کھلاڑی فائرنگ کے وقت نماز جمعہ ادا کرنے کے لیے مسجد آئے ہوئے تھے۔پریس کانفرنس کرتے ہوئے بنگلا دیش کرکٹ ٹیم کے کپتان تمیم اقبال نے کہا کہ بنگلا دیشی کرکٹ ٹیم کے تمام کھلاڑی اس واقعے میں محفوظ رہے۔بنگلا دیشی کرکٹر مشفق الرحیم نے اس موقع پر کہا کہ مسجد میں بنگلا دیشی ٹیم بھی موجود تھی جو اس واقعے میں محفوظ رہی۔انہوں نے کہا کہ ہم بہت خوش قسمت رہے کہ فائرنگ کے اس واقعے میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں محفوظ رکھا، ہم کبھی نہیں چاہیں گے کہ ایسا دوبارہ ہو۔واقعے کے حوالے سے نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ نے بیان جاری کیا اورکہاکہ دونوں ملکوں نیوزی لینڈ اور بنگلا دیش کے کھلاڑی محفوظ ہیں۔نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ نے یہ بھی کہا کہ اگلے لائحہ عمل کے لیے اتھارٹیز کے ساتھ کام رہے ہیں ،ٹیم کی کورریج کرنے والے ایک رپورٹر نے ٹویٹ کی کہ ٹیم کے ارکان ہیگلی پارک کے قریب واقع اس مسجد سے بچ کر نکلے جہاں پر حملہ آور موجود تھے،بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے ترجمان جلال یونس کا کہنا تھاکہ ٹیم کے زیادہ تر کھلاڑی بس کے ذریعے سے مسجد گئے تھے اور اس وقت مسجد کے اندر جانے والے تھے جب یہ واقعہ پیش آیا۔انھوں نے بتایا کہ وہ محفوظ ہیں۔ لیکن وہ صدمے میں ہیں۔ ہم نے ٹیم سے کہا ہے کہ وہ ہوٹل میں ہی رہیں۔

نیوزی لینڈ میں مساجد میں فائرنگ کے واقعات پر وزیراعلیٰ پنجاب کا اہم اعلان


لاہور ( این این آئی) وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے نیوزی لینڈ میں مساجد میں فائرنگ کے واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے ۔ وزیراعلی نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور اظہار تعزیت کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابیکیلئے دعا کی ۔ عثمان بزدار نے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں جاں بحق افراد کے لواحقین کے ساتھ ہیں۔ نماز جمعہ کے موقع پر فائرنگ کے واقعات کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے، یہ واقعات انتہائی افسوسناک ہیں۔ ایسے افسوناک واقعات کی روک تھام کیلئے عالمی سطح پر موثر اقدامات کی ضرورت ہے۔

داعش امریکہ کی پیداوار ہے اسے کس مقصد کیلئے قائم کیاگیاتھا؟،لیفٹیننٹ جنرل (ر)آصف یاسین ملک کے چونکادینے والے انکشافات


اسلام آباد (آن لائن )سابق سیکرٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل (ر)آصف یاسین ملک نے کہا ہے کہ داعش امریکہ کی پیداوار ہے جو شام،عراق اور افغانستان میں بدامنی کیلئے قائم کی گئی انہوں نے کہا داعش کو بیرونی امداد ملتی ہے جو افغانستان میں امن خراب کرنے کیلئے استعمال ہوتی ہیرہاہے ،ان خیالات کااظہار انہوں نے انٹرنیشنل تھنک ٹینک ادارے پاکستان ہاؤس کے زیراہتمام افغانستان سے متعلقہ ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیاانہوں نے کہا افغانستان میں جنگی صورتحال کے باعث بیروزگاری بڑھی جس کا داعش فائدہ اٹھارہی ہے لیکن داعش کے زیادہ تر کمانڈر افغان نہیں،داعش طالبان اور پاکستان کیخلاف بھرپور پروپیگنڈہ کرتی ہے اور ان کے پاس تیس پینتیس ہزار کے لگ بھگ فورس ہے انہوں نے کہا طالبان کے کچھ سابق اہلکار بھی داعش کے ساتھ کام کررہے ہیں،انہوں نے کہا ان حالات میں پاک افغان بارڈر پر باڑ لگانا ضروری ہیاور فاٹا کے انضمام کے بعد بجٹ جاری کیاجانا چاہیے،سابق سفیر اشرف جہانگیر قاضی نے کہاہے کہ بھارت کشمیر کھو چکاہے،افغانستان میں امن خطے میں امن کی ضمانت ہے،،پاکستان افغانستان میں امن ،سلامتی اور استحکام چاہتا ہے لیکن بھارت وہاں بدامنی پھیلا انہوں نے کہا سنٹرل ایشیا میں امن افغانستان سے وابستہ ہے،نیو نیشنل فرنٹ افغانستان کے چیئرمین انوارالحق احدی نے خطاب کرتے ہوئیکہا کہ طالبان اور افغان حکومت کے مابین دوحہ مذاکرات اہمیت کیحامل ہیں لیکن ان پر عملدرآمد ہوناچاہئے کیونکہ افغانستان کے لوگ امن کیلئے ترس رہے ہیں،ان مذاکرات سے نئی امیدیں پیدا ہوئی ہیں،انہوں نے کہا افغان مسئلے کا حل فوجی نہیں،مذاکرات ہیں،افغان حکومت کو بھی طالبان کے مطالبات کو دیکھنا چاہئے لیکن طالبان ایک طرف تو افغان آئین میں تبدیلی چاہتے ہیں لیکن دوسری طرف وہ اس سلسلے میں تجاویز پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں،پاکستان،ایران،روس اوردیگر علاقائی قوتوں کا اہم کردار ہے جسے نظر اندازنہیں کیاجاسکتا،انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ گار ایرانین سٹڈیزکیچیئرمین محمد السلامی نے کہاکہ افغانستان کیامن عمل میں ایران کا اہم کردار ہے،اس مسئلے کو شیعہ سنی اور فرقہ وارانہ تقسیم سے بالاتر ہوکر حل کرنے کی ضرورت ہے،ڈی جی پاکستان ہاؤس رانااطہرجاوید نے کہا کہ ہم افغانستان میں قیام امن کیلئے اپناموثرکردار ادا کررہے ہیں انہوں نے کہا بھارت کوافغانستان میں امن کے راستے میں روڑے اٹکانے سے باز رہنا چاہئے انہوں نے کہابھارت اور اس کامیڈیا افغانستان میں پاکستان مخالف منفی پروپیگنڈہ کررہا ہے اور اس سلسلے میں کروڑوں روپے خرچ کررہا ہے،تمام متعلقہ لوگوں کو مذاکرات میں شامل کیاجانا چاہئے،سابق سفیر محمد صادق نے کہا کہاقوام متحدہ ہر نویں مہینے افغانستان پر اپنی پالیسی تبدیل کی ہے افغان مسئلے پر مستقل حکمت عملی قائم کرنے کی ضرورت ہے،امریکہ افغانستان میں بری طرح ناکام ہوگیاہے،افغان امور کے ماہر حارث علی کاکاخیل نے کہا افغانستان کے شیعہ اور ہزارہ قبائل بھی طالبان کی حمایت کررہے ہیں،ڈی جی وزارت خارجہ زائد حفیظ چغتائی نے کہا کہ پاکستان نہ صرف افغانستان میں سٹیک ہولڈر ہے بلکہ افغانستان میں قیام امن کا سب سے زیادہ فائدہ بھی پاکستان کوہی ہے کیونکہ پاکستان سمجھتا ہے کہ افغانستان میں امن قائم ہوئے بغیر پاکستان میں امن قائم نہیں ہوسکتا،انہوں نے کہا یہ تاثر غلط ہے کہ پاکستان افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم کرنا چاہتا ہے ،پاکستان افغانستان میں صرف عوام کی نمائندہ حکومت چاہتاہے،انہوں نے کہا پاکستان پرطالبان کی سرپرستی کے الزامات درست نہیں البتہ ہمارے طالبان کے ساتھ روابط ضرور ہیں۔

تنگ جوتے کی تکلیف



گورنر صاحب نیچے آئے‘ مونچھوں کو تاﺅ دیا اور بھاری آواز میں بولے ”کل مال روڈ پر کوئی طالب علم نظر نہیں آنا چاہیے خواہ آپ کو جلوس روکنے کےلئے گولی ہی کیوں نہ چلانی پڑ جائے“ ایس ایس پی کے ماتھے پر پسینہ آ گیا‘ وہ گھبرا کر جیب میں رومال ٹٹولنے لگا‘ گورنر صاحب اپنے دفتر کی طرف چل پڑے‘ ایس ایس پی لپک کر ان کے پیچھے دوڑا اور سانس سنبھالتے سنبھالتے بولا ”سر لیکن مجھے اس کےلئے آپ کا تحریری حکم چاہیے ہو گا“ ۔
گورنر صاحب غصے سے دھاڑے ”کیا میرا زبانی حکم کافی نہیں“ ایس ایس پی کی گردن تک پسینے سے بھیگ گئی‘ وہ رک رک کر بولا ”سر ہم تحریری حکم کے بغیر گولی نہیں چلا سکتے“ گورنر نے
غصے سے گردن ہلائی اور زور سے آواز لگائی ”سیکرٹری کہاں ہے!“ گورنر کی آواز پورے گورنر ہاﺅس میں گونجی‘ دھڑا دھڑ دروازے کھلے اور ہر قسم کا سیکرٹری پیش ہو گیا‘ گورنر نے سب کی طرف دیکھا اور اونچی آواز میں کہا ”میں نے ایس ایس پی کو سٹوڈنٹس پر گولی چلانے کا حکم دے دیا ہے‘ یہ جو کاغذ‘ جو تحریری حکم مانگیں آپ انہیں دے دیں لیکن مجھے کل مال روڈ پر کوئی طالب علم نظر نہیں آنا چاہیے اور جو آئے اسے زندہ واپس نہیں جانا چاہیے“ کوریڈور میں سراسیمگی‘ خوف اور پریشانی کے ڈھیر لگ گئے اور تمام افسر خوف سے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔یہ گورنر نواب آف کالا باغ تھے‘ یہ 1960ءسے 1966ءتک پنجاب کے گورنر رہے‘ پاکستان اس وقت مغربی پاکستان ہوتا تھا اور نواب صاحب اس پورے مغربی پاکستان کے واحد گورنر تھے‘ یہ صرف چھ سال گورنر رہے لیکن پنجاب میں آج بھی ان کی انتظامی گرفت کی مثالیں دی جاتی ہیں‘ لوگ آج بھی کہتے ہیں پنجاب کی تاریخ میں حکمران صرف ایک ہی گزرا ہے اور وہ تھا نواب آف کالاباغ‘ نواب صاحب نڈر شخص تھے‘ ان کا ہر حکم کلیئر اور ڈائریکٹ ہوتا تھا اور وہ بعد ازاں اس کی ساری ذمہ داری بھی قبول کرتے تھے۔
یہ بھی مشہور تھا وہ حکم جاری کرنے کے بعد واپس نہیں لیتے تھے خواہ انہیں اس کی کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے‘ بیورو کریسی ان کی اس خو سے واقف تھی چنانچہ نواب صاحب نے جب طالب علموں پر گولی چلانے کا حکم دیا تو گورنر ہاﺅس سے لے کر سیکرٹریٹ تک سراسیمگی پھیل گئی‘ مال روڈ پر طالب علموں پر گولی چلانا اور پھر لاشیں اٹھانا کوئی آسان کام نہیں تھا‘ یہ سانحہ ملک کی بنیادیں تک ہلا سکتا تھا لیکن نواب صاحب کو سمجھانا ممکن نہیں تھا لہٰذا تمام افسر ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔
افسروں نے اس ایشو کا کیا حل نکالا؟ ہم آپ کو یہ بتائیں گے لیکن آپ پہلے اس واقعے کا پس منظر ملاحظہ کیجئے‘ یہ ایوب خان کا دور تھا‘ ملک میں طالب علموں نے حکومت کے خلاف تحریک شروع کر رکھی تھی‘ یہ سڑکوں پر نکلتے تھے‘ ایوب خان کے خلاف نعرے لگاتے تھے اور پولیس روکتی تھی تو یہ پتھراﺅ کر کے بھاگ جاتے تھے‘ یہ سلسلہ چلتے چلتے لاہور پہنچ گیا‘ گورنمنٹ کالج کے طالب علموں نے مال روڈ پر جلوس نکالنے کا اعلان کیااور لاہور کے تمام کالجوں کے طالب علم ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔
حکومت پریشان ہو گئی‘ گورنر صاحب نے جلوس سے ایک دن پہلے ایس ایس پی کو بلا لیا‘ یہ صبح رہائشی کمرے سے نکلے تو ایس ایس پی سیڑھیوں کے نیچے کھڑا تھا‘ گورنر نے اسے دیکھا اور حکم جاری کر دیا”جلوس نہیں نکلنا چاہیے خواہ طالب علموں پر گولی ہی کیوں نہ چلانی پڑ جائے“ اور آپ باقی کہانی پڑھ چکے ہیں۔بیورو کریسی نے گورنر کو نتائج سے آگاہ کرنے کا فیصلہ کیا‘ نواب صاحب کو ذاتی ملازمین کے ذریعے رام کرنے کی کوشش کی گئی‘ نواب صاحب نے صاف انکار کر دیا۔
چیف سیکرٹری نے ڈرتے ڈرتے عرض کیا لیکن جھاڑ کھا کر واپس آ گیا اور نواب صاحب کے صاحبزادے نے سمجھانے کی ہمت کی لیکن وہ بھی گالیاں کھا کر باہرآ گیا‘ گورنر صاحب نے شام کے وقت گولی چلانے کا تحریری حکم بھی جاری کر دیا اور یہ حکم اخبارات اور پورے صوبے کی بیورو کریسی تک بھی پہنچ گیا‘ اگلی صبح لاہور کی بیورو کریسی کےلئے مشکل ترین دن تھا‘ پولیس نے مال روڈ گھیر لیا‘ طالب علم کالجوں میں اکٹھے ہوئے‘ نعرے لگانا شروع کئے۔
پولیس نے رائفلیں سیدھی کر لیں اور پھر ایک حیران کن واقعہ پیش آیا‘ طالب علم نعرے لگانے کے بعد اپنی اپنی کلاسز میں واپس چلے گئے‘ ان میں سے کوئی مال روڈ پر نہیں نکلا‘ پولیس شام تک سڑک پر کھڑی رہی‘ صدر ایوب خان راولپنڈی میں بیٹھ کر لاہور کی صورت حال واچ کر رہے تھے‘ وہ طالب علموں کی پسپائی پر حیران رہ گئے اور انہوں نے گورنر صاحب کو ٹیلی فون کر کے پوچھا ”نواب صاحب میں آپ کو مان گیا لیکن آپ نے یہ کیا کیسے؟“۔
نواب صاحب مونچھوں کو تاﺅ دیا کرتے تھے۔وہ بائیں مونچھ کو چٹکی میں دبا کر بولے ”صدر صاحب میں جانتا ہوں لاہور کے تمام بیورو کریٹس کے بچے‘ بھانجے اور بھتیجے کالجوں میں پڑھتے ہیں‘ یہ افسر میری فطرت سے بھی واقف ہیں‘ یہ جانتے ہیں میں نے اگر گولی کا حکم دیا ہے تو پھر گولی ضرور چلے گی چنانچہ میں نے ان کی نفسیات سے کھیلنے کا فیصلہ کیا‘ میں نے حکم دے دیا‘ مجھے یقین تھا یہ لوگ کل اپنے بچوں کو کالج نہیں جانے دیں گے۔
ان کے بچے اپنے دوستوں کوبھی صورت حال کی نزاکت سے آگاہ کر دیں گے اور یوں کوئی طالب علم مال روڈ پر نہیں نکلے گا“ صدر ایوب خاموشی سے سنتے رہے‘ نواب آف کالا باغ نے اس کے بعد یہ تاریخی فقرہ کہا”صدر صاحب! انسان کی فطرت ہے یہ دوسروں کےلئے سخت اور اپنے لئے نرم فیصلے کرتا ہے اور میں ہمیشہ انسان کی اس خامی کا فائدہ اٹھاتا ہوں‘ میں اپنے فیصلوں میں فیصلہ کرنے والوں کا سٹیک شامل کر دیتا ہوں چنانچہ رزلٹ فوراً اور نرم آتا ہے“۔
نواب آف کالا باغ کی بات درست تھی‘ ہم انسان اپنی ذات سے متعلق فیصلے ہمیشہ اچھے اور جلدی کرتے ہیں جبکہ دوسروں کے فیصلے دہائیوں تک میز کی درازوں میں پڑے رہتے ہیں‘ آپ کو اگر یقین نہ آئے تو آپ پنجاب اسمبلی کا تازہ ترین فیصلہ دیکھ لیجئے‘پنجاب اسمبلی نے 15 اگست2018ءکو حلف اٹھایا‘ 368 ارکان میں سات ماہ میں کسی ایک ایشو پر اتفاق رائے نظر نہیں آیا‘ عوام نے جب بھی دیکھا یہ لوگ ایک دوسرے کے جانی دشمن نظر آئے لیکن 12 مارچ کو اسمبلی کے تمام اراکین میں اتفاق رائے ہو گیا۔
اسمبلی میں ایک بل پیش ہوا‘ کوئی بحث ہوئی اور نہ کسی نے اعتراض اٹھایا‘ سپیکر نے بل قائمہ کمیٹی میں بھجوایا‘ کمیٹی نے ایک دن میں منظوری دے دی‘ یہ تیسرے دن اسمبلی میں پیش ہوا اور اسمبلی نے دس منٹ میں بل پاس کر دیا ‘یہ پنجاب اسمبلی کے ارکان‘ ڈپٹی سپیکر‘ سپیکر‘ وزراءاور وزیراعلیٰ کی تنخواہ اور مراعات میں اضافے کا مقدس ترین بل تھا اور اس بل کے ذریعے وزیراعلیٰ چار لاکھ 25 ہزار‘ سپیکر دو لاکھ60 ہزار‘ ڈپٹی سپیکردو لاکھ 45 ہزار‘ وزراءدو لاکھ 75 ہزار اوراراکین اسمبلی ایک لاکھ 95 ہزار ماہانہ تنخواہ اور مراعات وصول کریں گے۔
ارکان اسمبلی‘ وزراءاور وزیراعلیٰ کے ڈیلی الاﺅنس‘ ہاﺅس رینٹ‘ یوٹیلٹی الاﺅنس اور مہمانداری الاﺅنس میں بھی دو‘ تین اور چار گنا اضافہ کر دیا گیا‘ میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں ارکان‘ وزراءاور وزیراعلیٰ کی تنخواہیں کم تھیں‘ یہ اضافے کے بعد بھی تسلی بخش نہیں ہیں‘ آج کے دور میں اس آمدنی میں اچھا لائف سٹائل برقرار رکھنا ممکن نہیں لیکن سوال یہ ہے کیا ارکان اسمبلی اور وزراءغریب ہیں؟ کیا یہ صرف تنخواہ پر گزارہ کر رہے ہیں؟ جی نہیں! 99 فیصد ارکان کا روزانہ کا خرچ ان کی ماہانہ تنخواہ سے زیادہ ہے۔
ملک کے غرباءتو رہے دور مڈل کلاس کا کوئی شخص بھی الیکشن کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتا لہٰذا یہ تمام لوگ رئیس ہوتے ہیں لیکن آپ ان رئیس لوگوں کی حرص بھی ملاحظہ کیجئے‘ یہ اپنی مراعات اور تنخواہوں کےلئے چند لمحوں میں اپنے تمام اختلافات بھلا کر اکٹھے ہو گئے‘ بل آیا اور دو دن میں تمام مراحل طے کر کے پاس ہو گیا‘ اس پر اس ماہ سے عمل درآمد بھی شروع ہو جائے گا‘ یہ سپیڈ ثابت کرتی ہے ہمارے ارکان اسمبلی اپنے ذاتی ایشوز پر یک جان ہیں لیکن یہ عوامی ایشوز پر منقسم ہیں۔
یہ لوگ عوام کے ایشوز پر کبھی اکٹھے ہوئے اور نہ ہوں گے‘ کیوں؟کیونکہ عوامی ایشوز میں ان کا کوئی سٹیک شامل نہیں ہوتا چنانچہ یہ ان ایشوز پر اکٹھے ہوتے ہیں اور نہ ہی اسمبلی آتے ہیں‘ میری وزیراعظم عمران خان سے درخواست ہے یہ چند ماہ کےلئے نواب آف کالاباغ بن جائیں‘ یہ عوامی ایشوز میں ارکان اسمبلی اور بیورو کریسی کو سٹیک ہولڈر بنا دیں‘ یہ اعلان کر دیں سرکاری افسروں اور ارکان اسمبلی کی تنخواہیں مڈل کلاس کے برابر ہوں گی‘ بچے سرکاری سکولوں میں پڑھیں گے‘ یہ سرکاری ہسپتالوں اور ڈسپنسریوں سے علاج کرائیں گے۔
پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کریں گے‘ یہ اپنے ہاتھ سے ٹیکس ریٹرنز سمیت تمام فارم پر کریں گے اور تمام یوٹیلٹی بلز بھی خود دیں گے‘ آپ اس کے بعد کھلی آنکھوں سے تمام فارم آسان‘تمام ہسپتال‘ سکول اور ٹرانسپورٹ ٹھیک اور ساری مہنگائی کنٹرول ہوتے دیکھیں گے‘ہمارے پالیسی سازکیونکہ خود اس پالیسی سے باہر ہوتے ہیں چنانچہ یہ پوری زندگی تنگ جوتے کی تکلیف سے لا علم رہتے ہیں‘ آپ انہیں ایک بار وہ تنگ جوتا پہنا دیں جو عوام روز پہنتے ہیں تو پھرآپ کمال دیکھئے‘یہ پرانا پاکستان نیا پاکستان بنتے دیر نہیں لگائے گا‘آپ انہیںایک بار عوام بنا دیں ‘ یہ پوری عوام کے مسئلے حل کر دیں گے۔

’’نیوزی لینڈ کی دو مساجد میں اندھا دھند فائرنگ کا واقعہ ‘‘ ہلاکتوں کی تعداد میں افسوسناک حد تک اضافہ ،


کرائسٹ چرچ/لندن /ڈھاکہ/نئی دہلی (این این آئی)نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں نماز جمعہ میں مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں 49افرادجاں بحق اور48سے زائد زخمی ہوگئے ،تین منٹ تک مسجد میں فائرنگ کرنے کے بعد حملہ آور مرکزی دروازے سے باہر نکلاجہاں اس نے گاڑیوں پر بھی فائرنگ شروع کر دی، حملہ آور جدید ہتھیاروں سے لیس اور پیٹرول بموں سے بھری گاڑی کیساتھ پہنچا تھاجو ہیلمٹ میں لگے کیمرے سے واردات کی ویڈیو لائیو اسٹریمنگ کرتارہا،ایک حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا جسے آج(ہفتہ کو )عدالت میں پیش کیا جائے گا،فائرنگ کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے علاقہ اپنے گھیرے میں لے لیا اور مکینوں کو بھی گھروں سے نہ نکلنے جبکہ کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع فوراً پولیس کو دینے کی بھی ہدایت کی گئی ہے، ملزم نے اپنی شناخت آسٹریلوی شہری برینٹن ٹیرینٹ کے نام سے کی ہے،حملہ آور وردی میں ملبوس تھا،جس کی عمر 30 سے 40 سال تھی۔جبکہ نیوزی لینڈ کے دورے پر آئی ہوئی بنگلا دیش کی کرکٹ ٹیم فائرنگ کی زد میں آنے سے بال بال بچ گئی ہے، جس کے کھلاڑی فائرنگ کے وقت نماز جمعہ ادا کرنے کے لیے مسجد آئے ہوئے تھے۔واقعے کے حوالے سے نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ نے کہاہے کہ دونوں ملکوں نیوزی لینڈ اور بنگلا دیش کے کھلاڑی محفوظ ہیں، اگلے لائحہ عمل کے لیے اتھارٹیز کے ساتھ کام رہے ہیں تاہم آج (ہفتہ کو)ہونیوالا ٹیسٹ میچ ملتویٰ کردیا گیا ہے بعدازاں نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیکینڈا آرڈرن نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ملکی تاریخ کا سیاہ ترین دن قرار دے دیتے ہوئے کہاہے کہ مسجد میںفائرنگ دہشت گردی ہے۔ادھرنیوزی لینڈ میں پاکستانی ہائی کمیشن نے بتایا ہے کہ کرائسٹ چرچ کی مسجد نور اور مسجد لنٹن میں فائرنگ کے واقعے میں کسی پاکستانی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جمعہ کو نیوزی لینڈ کی پولیس نے ایک بیان میں بتایاکہ فائرنگ کے واقعات کرائسٹ چرچ میں واقع مسجدِ نور اور مسجد لنٹن میں پیش آئے، جس میں مسلح افراد نے مساجد میں داخل ہو کر خودکار ہتھیاروں سے نمازیوں پر فائرنگ شروع کر دی۔انہوں نے کہاکہ مسجد میں ایک مسلح شخص داخل ہوا جس نے مشین گن سے فائرنگ کی،حملہ آور نے پنڈلیوں میں گولیوں سے بھرے میگزین باندھے ہوئے تھے۔مقامی میڈیا نے بتایا کہ ملزم نے اپنی شناخت آسٹریلوی شہری برینٹن ٹیرینٹ کے نام سے کی ہے،حملہ آور وردی میں ملبوس تھا،جس کی عمر 30 سے 40 سال تھی۔مقامی میڈیا کے مطابق حملہ آور جدید ہتھیاروں سے لیس اور پیٹرول بموں سے بھری گاڑی کیساتھ پہنچا تھا،جو ہیلمٹ میں لگے کیمرے سے واردات کی ویڈیو لائیو اسٹریمنگ کرتارہا۔مقامی میڈیا نے مزید بتایا کہمسلح شخص نے مسجد میں داخل ہوتے ہی اندھا دھند فائرنگ کی، اس نے کئی بار گن کو ری لوڈ کیا اور مختلف کمروں میں جا کر فائرنگ کی۔مقامی میڈیانے یہ بھی کہا کہ تین منٹ تک مسجد میں فائرنگ کرنے کے بعد حملہ آور مرکزی دروازے سے باہر نکلا،جہاں اس نے گاڑیوں پر بھی فائرنگ شروع کر دی۔نیوزی لینڈ پولیس کے مطابق کرائسٹ چرچ شہر کی دو مساجد میں اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں دو درجن سے زائد نمازیوں کی شہادت کیاطلاعات ہیں۔پولیس حکام نے تصدیق کی کہ مسجد میں فائرنگ کا مرتکب حملہ آور گرفتار کر لیا گیا ۔نمازیوں کے قتل عام کرنے والا قاتل کی شناخت برنٹن ٹرنٹ کے نام سے ہوئی۔ اس نے قتل عام کی دلخراش واردت پندرہ منٹ تک فیس بک پر نشر کی۔ کرائسٹ چرچ کے کمشنر مائیک بش نے بتایا کہ ہماری معلومات کے مطابق فائرنگ کے نیتیجے میں ہلاکتیں شاہراہ ڈینز اور شاہراہ لینووڈ پر واقع مساجد میں ہوئیں۔عینی شاہدین نے واقعہ کی کوریج کرنےوالے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ حملہ آور نے فوجی وردی سے ملتا جلتا لباس پہن رکھا تھا۔ اس کے ہاتھ میں خودکار بندوق تھی جس سے وہ مسجد النور میں اندھا دھند نمازیوں پر فائرنگ کرتا رہا۔وقوعہ کے عینی شاہد نے نیوزی لینڈ ریڈیو کو واقعے کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ ’انہوں نے فائرنگ کی ا?وازیں سنیں جس کے نتیجے میں 4 افراد زمین پر گرے ہوئے تھے جبکہ ہر طرف خون پھیلا ہوا تھا۔عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور ایک بج کر45 منٹ پر مسجد النور میں داخل ہوا جس کے بعد فائرنگ کی آواز سنی گئی، نمازِ جمعہ کے سبب مسجد میں بڑی تعداد میں نمازی موجود تھے۔حملے کے بعد لوگ خوفزہ ہو کر مسجد نے باہر نکلے، اس کے علاوہ ایک حملہ آور کو بھی ہتھیار پھینک کر بھاگتے ہوئے دیکھا گیا, فائرنگ کا دوسرا واقعہ لین ووڈ مسجد میں پیش آیا۔ایک اور عینی شاہد کا کہنا تھا کہ وہ ڈینز ایو مسجد میں نماز ادا کررہے تھے جب فائرنگ آواز سنی اور جب وہ باہر کی طرفبھاگے تو انہوں نے دیکھا کہ ان کی اہلیہ کی لاش فٹ پاتھ پر گری ہوئی ہے۔ایک اور عینی شاہد کے مطابق فائرنگ سے بچوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے متعدد لاشیں دیکھیں ہیں۔ادھرنیوزی لینڈ میں پاکستانی ہائی کمیشن کے مطابق کرائسٹ چرچ کی مسجد نور اور مسجد لنٹن میں فائرنگ کے واقعے میں کسی پاکستانی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔ایک غیر مصدقہ ویڈیو بھی منظر عام پر آئی ہے جو مبینہ طور پر حملہ آور کیبنائی ہوئی ہے۔ اس میں اسے لوگوں پر فائرنگ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم فیس بک نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس ویڈیو کو اپنی سائٹ سے ہٹا رہے ہیں۔ایک حملہ آور کی جانب سے فیس بک پر ڈالی جانے والی حملے کی لائیو ویڈیو کو اگرچہ ہٹا دیا گیا ہے، لیکن متعدد مختلف اکاؤنٹس سے دوبارہ اپ لوڈ کی جانے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا کہ حملہ آور ایسے ہتھیار گاڑی سے نکالتا ہے جن پر مختلف عبارتیں لکھی ہیں اور اس کے بعد وہ مسجد میںداخل ہو کر نمازیوں پر فائرنگ کرتا ہے۔حملہ آور نے یقینی بنایا کے کوئی بھی مسجد سے باہر نکلنے نہ پائے۔ اس دوران وہ بھاگنے والے نمازیوں کا پیچھا کرتے ہوئے باہر پارکنگ تک نکل جاتا ہے اور ان پر گولیاں چلا کر دوبارہ مسجد میں آ کر بھاگنے کی کوشش کرنے والے زخمیوں پر دوبارہ گولیاں چلاتا ہے۔ نیوزی لینڈ کے دورے پر آئی ہوئی بنگلا دیش کی کرکٹ ٹیم فائرنگ کی زد میں آنے سے بال بال بچ گئی ہے، جس کے کھلاڑی فائرنگ کے وقتنماز جمعہ ادا کرنے کے لیے مسجد آئے ہوئے تھے۔پریس کانفرنس کرتے ہوئے بنگلا دیش کرکٹ ٹیم کے کپتان تمیم اقبال نے کہا کہ بنگلا دیشی کرکٹ ٹیم کے تمام کھلاڑی اس واقعے میں محفوظ رہے۔بنگلا دیشی کرکٹر مشفق الرحیم نے اس موقع پر کہا کہ مسجد میں بنگلا دیشی ٹیم بھی موجود تھی جو اس واقعے میں محفوظ رہی۔انہوں نے کہا کہ ہم بہت خوش قسمت رہے کہ فائرنگ کے اس واقعے میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں محفوظ رکھا، ہم کبھی نہیں چاہیں گے کہایسا دوبارہ ہو۔واقعے کے حوالے سے نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ نے بیان جاری کیا اورکہاکہ دونوں ملکوں نیوزی لینڈ اور بنگلا دیش کے کھلاڑی محفوظ ہیں۔نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ نے یہ بھی کہا کہ اگلے لائحہ عمل کے لیے اتھارٹیز کے ساتھ کام رہے ہیں ،ٹیم کی کورریج کرنے والے ایک رپورٹر نے ٹویٹ کی کہ ٹیم کے ارکان ہیگلی پارک کے قریب واقع اس مسجد سے بچ کر نکلے جہاں پر حملہ آور موجود تھے،بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے ترجمان جلالیونس کا کہنا تھاکہ ٹیم کے زیادہ تر کھلاڑی بس کے ذریعے سے مسجد گئے تھے اور اس وقت مسجد کے اندر جانے والے تھے جب یہ واقعہ پیش آیا۔انھوں نے بتایا کہ وہ محفوظ ہیں۔ لیکن وہ صدمے میں ہیں۔ ہم نے ٹیم سے کہا ہے کہ وہ ہوٹل میں ہی رہیں۔حکومتی ڈیٹا کے مطابق نیوزی لینڈ کی آبادی کا صرف 1.1 فیصد حصہ مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ سنہ2013 میں کی گئی مردم شماری کے مطابق نیوزی لینڈ میں 46000 مسلمان رہائش پذیر تھے،جبکہ 2006 میں یہ تعداد 36000 تھی۔ سات سالوں میں 28 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا اور یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔بعدازاں نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیکینڈا آرڈرن نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ملکی تاریخ کا سیاہ ترین دن قرار دے دیا، انہوں نے کہا کہ مسجد میں فائرنگ دہشت گردی ہے۔نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جسینڈا آرڈرن نے نیوز کانفرنس کے دوران مساجد پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے دہشت گردی کا واقعہ قرار دیا۔جسینڈا آرڈرن نے کہا کہ یہ ملک کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے، واقعے میں 49 افراد جاںبحق اور 48سے زائد زخمی ہوئے، یہ حملہ منصوبہ بندی سے کیا گیا اور اس کی تحقیقات کررہے ہیں۔وزیراعظم جسینڈا آرڈرن نے کہا کہ حملے میں ملوث تین افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن سے تفتیش جاری ہے، مسجد پر حملہ کرنے والے دہشت گرد واچ لسٹ میں نہیں تھے، زیر حراست افراد کی گاڑی میں بارودی مواد بھی نصب تھا۔جسینڈا آرڈرن نے کہا کہواقعہ ہمارے معاشرے کی عکاسی نہیں کرتا، ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا، شہریوں سے درخواست ہے سیکیورٹی اداروں کی ہدایات پر عمل کریں، سیکیورٹی ادارے مستعدی سے کام کررہے ہیں، اس واقعے کی تکلیف کو بھولنا ناممکن ہے۔واقعے کے بعد برطانوی وزیراعظم ٹریزا مے نے اپنے بیان میں کہاکہ کرائسٹ چرچ میں ہونے والے ہیبت ناک دہشت گردی کے حملے کے بعد میں پورے برطانیہ کی طرف سے نیوزیلینڈ کے عوام سے افسوس کا اظہار کرتی ہوں۔ میری دعائیں اس پر تشدد حملے میں متاثر ہونے والے تمام افراد کے ساتھ ہیں۔مسلم ممالک نے بھی نیوزی لینڈ میں دو مساجد پر ہوئے حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ جمعہ کو انڈونیشیا کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہاکہ عبادت کے مقام پرایسا حملہ ناقابل قبول ہے۔ اسی طرح ملائیشیا، ایران، بنگلہ دیش اور ترکی نے بھی ان حملوں کی مذمت کی ۔ ترک صدر کے ترجمان نے ان حملوں کو نسل پرستانہ اور فاشسٹ قرار دے دیا ہے۔ بھارت کی مسلم کمیونٹی نے بھی ان واقعات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ناقابل قبول قرار دے دیا ہے۔

بھارتی فضائیہ کے حملے میں جنگلات کو نقصان،پاکستان نے معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھا دیا،ہرجانہ طلب


اسلام آباد(این این آئی) بھارت کی ماحولیاتی دہشتگردی پر پاکستان نے معاملہ اقوام متحدہ کی ماحولیاتی اسمبلی میں اٹھا دیا۔ ذرائع کے مطابق بھارت کو ماحولیاتی دہشت گرد قرار دینے کا ڈوزئیر عالمی ادارہ ماحولیات میں پیش کر دیا ،ڈوزئیر وزیراعظم کی ہدایت پر مشیر ماحولیات ملک امین اسلم نے پیش کیا۔ڈوزیئر میں کہاگیا کہ 26 فروری کو بھارتی فضائیہ نے پے لوڈ پاکستانی جنگلات پر گرانے کی شرمناک حرکت کی۔ ملک امین اسلم کے مطابق حملہ کے ذریعے بھارت نے پاکستان کے ماحولیاتی اثاثوں کو نقصان پہنچایا۔مسودہ کے مطابق سٹرائیک کے نام پر درختوںکو نقصان پہنچا کر ایکو ٹیررزم کی گئی۔ ملک امین اسلم نے بتایا کہ درختوں کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ بھارت کو کرنا ہو گا،ماحولیاتی دہشتگردی پر پاکستان کا بھارت کے خلاف مقدمہ مضبوط ہے۔ ملک امین اسلم نے کہاکہ دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ پاکستان ماحولیات کیتحفظ میں سنجیدہ ہے۔ڈوزیئر کے مطابق اقوام متحدہ بھارتی در اندازی کو نوٹس لے۔ ڈوزیئر کے مطابق بھارت نے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے عالمی قوانین کی دھجیاں اڑائیں، اقوام متحدہ نریندر مودی کو دیا گیا چمپئن آف ارتھ کا خطاب فوری واپس لے۔

وزیراعظم کی ناراضگی، وزیراعلیٰ پنجاب کی مراعات میں اضافہ واپس،سپیکر کی تنخواہ بھی کم کر دی گئی


لاہور(آن لائن) وزیراعظم کی ناراضگی کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب کی مراعات میں اضافہ واپس لے لیا گیا سپیکر کی تنخواہ بھی کم کر دی گئی ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق پنجاب اسمبلی میں گزشتہ روز پاس کی جانے والی سمری میں وزیراعلیٰ کو تاحیات گھر ملنا تھا گاڑی اور نوکر چاکر الگ تھے لیکن وزیر اعظم کی ناراضگی کے باعث سارا معاملہ بھی الٹ ہو گیاارکان اسمبلی کی تنخواہوں کے بل میں وزیراعلیٰ کے لئے لمبی چوڑی مراعات شامل تھیں وزیراعظم کے بیان کے بعد پنجاب اسمبلی کے منظور شدہ بل کو بدلنا پڑا اور بات صرف سیکیورتی تک محدود ہو گئی ہیں ترمیم شدہ بل میں سپیکر کی تنخواہ بھی 25 ہزار کم کر دی گئی ہے مگر ارکان اور وزراء کی اضافی تنخواہیں برقرار رہیں گی۔

نیوزی لینڈ دہشت گردی: حملہ آور نے 24 گھنٹے قبل اپنے عزائم ظاہر کردیئے تھے ،حملہ کیوں کیاگیا؟ اصل وجہ سامنے آگئی، سنسنی خیز انکشافات


کرائسٹ چرچ(آن لا ئن) نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں 2 مساجد پر دہشت گرد حملوں میں 49 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے، جس کے بعد اب تک 4 حملہ آوروں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔اس حوالے سے نیوزی لینڈ پولیس نے بتایا کہ حملہ آور دہشتگردی کی واچ لسٹ میں نہیں تھے اور انہوں نے اس حملے کے لیے منظم منصوبہ بندی کی تھی۔مگر اب یہ انکشاف ہوا ہے کہ مساجد پر حملے سے 24 گھنٹے پہلے ہی ایک 74 صفحات پر مبنی منشور آن لائن سامنے آچکا تھاجس میں کرائسٹ چرچ میں مسلمانوں پر حملے کا اعلان کیا گیا تھا۔حملہ آور برینٹن ٹیرنٹ کے نام سے موجود ٹوئٹر اکا ؤنٹ (جو اب معطل ہوچکا ہے) میں اس منشور کا لنک حملے سے قبل پوسٹ کرتے ہوئے اس حملے کی تفصیلات بھی بیان کی گئی تھیں۔اس منشور میں لکھا تھا 'میں ایک عام سفیدفام شخص ہوں، جس نے اپنے لوگوں کے مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا'۔ اس میں کہا گیا کہ وہ ایک حملہ کرے گا تاکہ یورپی سرزمین پر غیرملکیوں کے باعث ہونے والی لاکھوں اموات کا انتقام لے سکے۔ اس دستاویز میں لکھا تھا کہ جب تک ایک بھی سفیدفام زندہ ہے، یہ لوگ ہماری زمین کو فتح نہیں کرسکیں اور ہمارے لوگوں کی جگہ نہیں لے سکیں گے۔ اسی طرح یھی بتایا گیا کہ لکھنے والے نے دسمبر میں کرائسٹ چرچ میں مسلمانوں پر حملے کی منصوبہ بندی کی تھی جس پر اب عمل ہوگا اور یہ ایک دہشت گرد حملہ ہوگا جسے لائیو اسٹریم کیا جائے گا۔اس دستاویز کو میسجنگ بورڈ 8Chan میں پوسٹ کیا گیا اور اس کا لنک حملہ آور نے اپنے ٹوئٹر اکا ؤ نٹ پر شیئر کیا جہاں سے یہ حملے سے پہلے آن لائن پھیل چکا تھا جسے اب سوشل میڈیا کمپنیاں ہٹانے کی کوشش کررہی ہیں۔ اس دستاویز سے اندازہ ہوتا ہے کہ حملہ آور امریکا کی انتہا پسند سفید فام تحریک اور وہاں فائرنگ کے بڑے واقعات سے متاثر تھا۔ اور اس نے حملے پر جو رائفل استعمال کی، اس میں چند ماس شوٹنگ کے واقعات میں ملوث افراد کے نام بھی درج تھے جن میں سے الیگزینڈر بسونیٹی کا نام بھی لکھا تھاجس نے 2017 میں کینیڈا میں ایک مسجد پر فائرنگ کرکے 6 افراد کو جاں بحق کردیا تھا ، جس کے بعد اسے عمر قید کی سزا سنائی گئی۔اسی طرح حملہ آوروں کے ہتھیار پر خلافت عثمانیہ کی ایسی جنگوں کے حوالے تھے جن میں انہیں شکست کا سامنا ہوا۔ خیال رہے کہ حملہ آور برینٹن ٹیرنٹ کا تعلق آسٹریلیا سے ہے جو کچھ سال قبل تک نیوسا?تھ ویلز کے شہر گرافٹن میں ایک جم میں ٹرینر کے طور پر کام کرتا رہا تھا۔ واضح رہے کہ نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں موجود 2 مساجد النور مسجداور لین ووڈ میں حملہآوروں نے اس وقت داخل ہو کر فائرنگ کردی جب بڑی تعداد میں نمازی، نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لیے مسجد میں موجود تھے۔ نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اس افسوسناک واقعے میں 49 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوئے ۔ پولیس حکام کے مطابق واقعے کے بعد 4 حملہآوروں کو حراست میں لے لیا گیا ہے جن میں 3 مرد اور ایک خاتون شامل ہے۔ فائرنگ کے وقت بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم بھی نماز کی ادائیگی کے لیے مسجد پہنچی تھی تاہم فائرنگ کیآواز سن کر بچ نکلنے میں کامیاب رہی اور واپس ہوٹل پہنچ گئی۔

کرائسٹ چرج کی مساجد پر حملہ کس ملک کے شہریوں نے کیا ، نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے تصدیق کر دی


کرائسٹ چرچ(اے این این )نیوزی لینڈ  کے   شہرکرائسٹ چرچ  کی دو مساجد میں اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں40 سے زائد نمازیوں کو شہید کردیا گیا  ،20 سے زائد افراد زخمی  ہیں ، پولیس نے حملہ آور کو گرفتار کر لیا ،نمازیوں کے قتل عام کرنے والا قاتل کی شناخت برنٹن ٹرنٹ کے نام سے ہوئی، اس نے قتل عام کی دلخراش واردت پندرہ منٹ تک فیس بک پر نشر کی۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق  کرائسٹ چرچ کے کمشنر مائیک بش نے بتایا کہ ہماری معلومات کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں ہلاکتیں  شاہراہ لینووڈ پر واقع مسجد میں ہوئیں،مسجد النور کرائسٹ چرچ کے ہیگلی پارک کے قریب ڈین ایونیو پر واقع ہے۔فائرنگ کا دوسرا واقعہ لنوڈ ایونیو کی مسجد میں پیش آیا جہاں فائرنگ سے 10 افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں۔
پولیس کے مطابق 4 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جب کہ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جسینڈا آرڈرن نے میڈیا کو واقعے سے متعلق بریفنگ کے دوران تصدیق کی کہ مساجد پر باقاعدہ منصوبہ بندی سے حملے کیے گئے جو دہشتگردی ہے جس میں 40 افراد جاں بحق ہوئے۔وزیر اعظم نیوزی لینڈ نے مسجد میں فائرنگ کے واقعے کے حوالے سے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ یہ نیوزی لینڈ کا سیاہ ترین دن ہے، مساجد پر باقاعدہ منصوبہ بندی کے ذریعے حملہ کیا گیا، جس کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔انہوں نے تصدیق کی کہ کرائسٹ چرچ کی مساجد میں فائرنگ کرنے والا حملہ آور آسٹریلوی باشندہ ہے، حملہ آور دائیں بازو سے تعلق رکھنے والا انتہا پسند اور متشدد دہشت گرد ہے۔وزیراعظم نیوزی لینڈ نے کہا کہ زیر حراست افراد سے تفتیش جاری ہے، مسجد پر حملہ کرنے والے دہشت گرد واچ لسٹ میں شامل نہیں تھے۔انہوں نے کہا کہ مساجد پر حملہ دہشت گردی کا واقعہ ہے، شہریوں سے درخواست ہے کہ سیکیورٹی اداروں کی ہدایات پرعمل کریں۔جیکینڈا آرڈرن نے اس عزم کا اظہارکیا کہ وا قعے کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا، نیوزی لینڈ ایک پرامن اور دہشت گردی کے خلاف ملک ہے، آج کے واقعے سے پہنچنے والی تکلیف کو بھلانا ناممکن ہے۔انہوں نے کہاکہ النور مسجد میں فائرنگ اور اس کی ویڈیو بنانے والے حملہ آور سے متعلق بتایا جاتا ہے کہ وہ 28 سالہ آسٹریلوی شہری ہے تاہم پولیس کی جانب سے اس کی مزید تفصیلات  جاری نہیں کی گئیں۔ آسٹریلوی وزیراعظم نے حملہ آور کے آسٹریلوی شہری ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ حملہ آور دائیں بازو سے تعلق رکھنے والا انتہا پسند اور متشدد دہشتگرد ہے جس نے مسجد پر فائرنگ کر کے کئی معصوم انسانی جانوں کو ختم کیا جس کی بھرپور مذمت کرتا ہوں۔عینی شاہدین نے واقعہ کی کوریج کرنے والے ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ حملہ آور نے فوجی وردی سے ملتا جلتا لباس پہن رکھا تھا۔ اس کے ہاتھ میں خودکار بندوق تھی جس سے وہ مسجد النور میں اندھا دھند نمازیوں پر فائرنگ کرتا رہا۔پولیس حکام کے مطابق اب تک چار افراد، جن میں ایک عورت بھی شامل ہے، کو اب تک حراست میں لیا جا چکا ہے اورحملہ آور کو بھی گرفتار کرلیا گیا ۔پولیس نے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ جائے وقوعہ کے قریبی علاقوں سے دور رہیں، جبکہ اردگرد کے تمام سکول اور ہسپتال بند کر دیے گئے ہیں۔عینی شاہدین نے بتایا کہ حملہ   نماز کے دوران کیا گیا اور وہ حملہ آور سے اپنی جان بچا کر بھاگے۔ایک غیر مصدقہ ویڈیو بھی منظر عام پر آئی ہے جو مبینہ طور پر حملہ آور کی بنائی ہوئی ہے۔ اس میں اسے لوگوں پر فائرنگ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔موہن ابراہیم حملے کے دوران اسی علاقے میں تھے۔ انھوں نے نیوزی لینڈ ہیرلڈ کو بتایا پہلے ہمیں لگا کہ کوئی بجلی کا جھٹکا ہے، لیکن پھر سب لوگ بھاگنے لگے۔
میرے دوست ابھی تک اندر  تھے ،میں اپنے دوستوں سے فون پر رابطہ کرنے کی کوشش کر  تا رہا لیکن ابھی بھی کئی لوگوں سے رابطہ نہیں ہوا۔ میں ان کے لیے بہت فکر مند ہوں۔کرائسٹ چرچ کی مسجد النور میں موجود عینی شاہدین نے بتایا کہ انھوں نے مسجد کی عمارت کے باہر زخمی لوگوں کو زمین پر لیٹا دیکھا ہے، لیکن پولیس یا مقامی انتظامیہ نے اس خبر کی ابھی تک تصدیق نہیں کی۔مسجد النور میں موجود عینی شاہد عوام علی نے حملے کا آنکھوں دیکھا حال بیان کرتے ہوئے ریڈیو نیوزی لینڈ کو بتایا اس شخص نے فائر کرنا شروع کر دیا، ہم سب نے بس بچنے کے لیے پناہ لی۔جب ہمیں گولیاں چلنے کی آواز آنا رک گئی تو ہم کھڑے ہوئے اور ظاہر ہے کچھ
لوگ مسجد سے باہر بھاگ گئے۔ جب وہ واپس آئے تو وہ خون سے لت پت تھے۔ ان میں سے چند لوگوں کو گولیاں لگیں تھیں اور تقریبا پانچ منٹ بعد پولیس موقعے پر پہنچ گئی اور وہ ہمیں باحفاظت باہر لے آئے۔پولیس نے نزدیکی کیتھیڈرل سکوائر بھی خالی کروا لیا ہے، جہاں پر ہزاروں بچے موسمیاتی تبدیلی کے سلسلے میں ریلی نکال رہے تھے۔پولیس نے ہدایات دی ہیں کہ کرائسٹ چرچ کے رہائشی تا حکم ثانی اپنے اپنے گھروں کے اندر رہیں اور باہر نکلنے سے گریز کریں۔ اسی طرح شہر کے سکول بھی بند کر دیے گئے ہیں۔نیوزی لینڈ کے دورہ پر آئی بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی تمیم اقبال نے ایک ٹویٹ میں بتایا کہ پوری ٹیم جان بچا کر نکلنے میں
کامیاب ہوگئی۔ٹیم کی کورریج کرنے والے ایک رپورٹر نے ٹویٹ کی کہ ٹیم کے ارکان ہیگلی پارک کے قریب واقع اس مسجد سے بچ کر نکلے ہیں جہاں پر حملہ آور موجود ہیں۔بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے ترجمان جلال یونس کا کہنا ہے کہ ٹیم کے زیادہ تر کھلاڑی بس کے ذریعے سے مسجد گئے تھے اور اس وقت مسجد کے اندر جانے والے تھے جب یہ واقعہ پیش آیا۔انھوں نے اے ایف پی نیوز ایجنسی کو بتایا وہ محفوظ ہیں۔ لیکن وہ صدمے میں ہیں۔ ہم نے ٹیم سے کہا ہے کہ وہ ہوٹل میں ہی رہیں۔وزیرِ اعظم جاسنڈا آرڈرن نے اسے نیوزی لینڈ کی تاریخ کا سیاہ ترین دن قرار دیا ہے۔بنگلادیشی کرکٹر مشفق الرحیم نے اپنے ٹوئٹر بیان میں کہا کہ کرائسٹ چرچ کی مسجد میں فائرنگ ہوئی تاہم الحمد اللہ، اللہ نے ہمیں محفوظ رکھا، ہم بہت زیادہ خوش نصیب ہیں، دوبارہ اس طرح نہیں دیکھنا چاہتے، ہمارے لیے دعا کریں۔

Monday, 11 March 2019

طیاروں کی سیٹوں کا رنگ نیلا کیوں ہوتا ہے؟ حیران کن وجہ سامنے آگئی


لندن(مانیٹرنگ ڈیسک)  طیاروں کے حوالے سے ان میں چھپے راز عام مسافروں کے لیے ہمیشہ معمہ بنے رہتے ہیں۔پائلٹ کی زندگی سے لے کر ائیر ہوسٹز کے کوڈز سے لے کر، طیاروں پر کام کرنے والوں کے حوالے سے حیرت انگیز انکشافات سامنے آتے رہتے ہیں۔ مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ طیاروں کی نشستوں کی رنگت بھی مخصوص وجہ کو مدنظر رکھ کر کی جاتی ہے؟اور یہ وجہ اکثر ہوائی پروازوں میں جانے والے افراد کے لیے قابل فہم بھی ہے۔ہوسکتا ہے کہ آپ نے غور نہ کیا ہو مگر بیشتر فضائیکمپنیاں طیاروں کی نشستوں کی رنگت کے لیے نیلے رنگ کا انتخاب کرتی ہیں ۔ اس کے پیچھے بھی ایک وجہ چھپی ہے اور وہ مسافروں کو سکون اور امن کا احساس دلانے کے ساتھ ان کے اندر فضائی کمپنی کے لیے اعتماد پیدا کرنا ہے۔ فضائی کمپنیوں کے خیال میں یہ رنگ نروس مسافروں کو زیادہ محفوظ اور سکون کا احساس دلاتا ہے۔اس رنگت کا انتخاب اکثر بڑی کمپنیاں اور ہسپتال بھی اسی وجہ سے کرتے ہیں۔کلر ویب سائٹ کلر وہیل پرو کے مطابق یہ رنگ انسانی ذہن اور جسم کے لیے فائدہ مند تصور کیا جاتا ہے۔

دنیا کا وہ واحد ملک جہاں طلاق دینا غیر قانونی ہے، یہ کون سا ملک ہے؟ جواب ایسا جو آپ کے تمام اندازے غلط ثابت کردے گا


اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)کسی بھی معاشرے میں طلاق کو ایک ناپسندیدہ عمل قرار دیا گیا ہے اور اسلام میں بھی طلاق کو ناپسندیدہ فعل مانا گیا ہے مگر ناپسندیدہ فعل ہونے کے باوجود اس کی ناگزیروجوہات کی بنا پر اجازت بھی دی گئی۔ دنیا کے ہر ملک میں طلاق کسی نے کسی شکل اورقانون کے تحت جائز قرار دی گئی ہے ماسوائے ایک ملک کے۔ اس ملک میں شادی تو ہوتی ہے لیکن طلاق کیاجازت نہیں اور یہ ملک فلپائن ہے۔اور شاید یہی وجہ ہے کہ اس ملک میں ناجائز بچوں اور جنسی سیاحت عروج پر ہے اور اس حوالے سے فلپائن دنیا بھر میں بدنام ترین ملک ہے۔ دنیا کا واحد ملک ہے جس نے طلاق کو ممنوع قرار دینے والے عیسائی مذہبی اصول کو اب تک قانون کا درجہ دے رکھا ہے. حال ہی میں پہلی بار فلپائنی مقننہ کے سامنے ایک بل پیش کیاگیا ہے جس کا مقصد طلاق کے حق کو قانونی قرار دینا ہے لیکن اس کی منظوری کی کوئی امید نہیں ہے. چند دہائیاں قبل تک یورپ میں بہت سے ایسے ممالک تھے جہاں طلاق دینا غیر قانونی فعل سمجھا جاتا تھا لیکن آہستہ آہستہ یہ صورتحال تبدیل ہوتی چلی گئی. اس ضمن میں سب سے پہلی تبدیلی 1970ء میں اٹلی میں آئی جہاں طلاق سے متعلق قانون منظور کیا گیا. اس کے بعد 1977ء میں برازیل میں، 1981ء میں سپین میں، 1987ء میں ارجنٹینا میں، 1997ء میں آئرلینڈ اور 2004ء میں چلی میں بھی طلاق کو قانونی حق قرار دے دیا حال ہی میں پہلی بار فلپائنی مقننہ کے سامنے ایک بل پیش کیاگیا ہے جس کا مقصد طلاق کے حق کو قانونی قرار دینا ہے لیکن اس کی منظوری کی کوئی امید نہیں ہے. چند دہائیاں قبل تک یورپ میں بہت سے ایسے ممالک تھے جہاں طلاق دینا غیر قانونی فعل سمجھا جاتا تھا لیکن آہستہ آہستہ یہ صورتحال تبدیل ہوتی چلی گئی. اس ضمن میں سب سے پہلی تبدیلی 1970ء میں اٹلی میں آئی جہاں طلاق سے متعلق قانون منظور کیا گیا. اس کے بعد 1977ء میں برازیل میں، 1981ء میں سپین میں، 1987ء میں ارجنٹینا میں، 1997ء میں آئرلینڈ اور 2004ء میں چلی میں بھی طلاق کو قانونی حق قرار دے دیا گیا. اب فلپائن وہ آخری ملک ہے جہاں طلاق ابھی تک غیر قانونی ہے۔گیا. اب فلپائن وہ آخری ملک ہے جہاں طلاق ابھی تک غیر قانونی ہے۔

کوئٹہ کو شکست دے کر لگ رہا ہے ہم ایونٹ کی ٹرافی بھی جیت سکتے ہیں، عماد وسیم


کراچی (این این آئی) کراچی کنگز کے کپتان عماد وسیم نے کہاہے کہ کوئٹہ کو شکست دے کر لگ رہا ہے ہم ایونٹ کی ٹرافی بھی جیت سکتے ہیں۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عماد وسیم نے کہا کہ کوئٹہ کو شکست دے کر لگ رہا ہے اب ہم ایونٹ کی ٹرافی بھی جیت سکتے ہیں۔ عماد وسیم نےاس بات کا اعتراف کیا کہ ایونٹ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو ہرانا ان کیلئے آسان نہیں تھا۔یاد رہے کہ پاکستان سپر لیگ فور کے 28 ویں میچ میں کراچی کنگز نے دلچسپ مقابلے کے بعد کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو ایک رن سے شکست دیکر پلے آف مرحلے کے لیے کوالیفائی کر لیا ۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کا آئی سی سی سے بھارت کے خلاف ایکشن لینے کا مطالبہ


کراچی (این این آئی) پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئر مین پی سی بی احسان مانی نے کہاہے کہ آئی سی سی سے بھارت کے خلاف ایکشن لینے کا مطالبہ کیا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق احسان مانی نے کہا کہ بھارت نے دو بار کرکٹ کو سیاست کا شکار بنایا ہے۔جس سے اس کی پوزیشن خراب ہوئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ماضی میں عمران طاہر اور معین علی کے خلاف بھی کارروائی کی گئی تھی۔چیئرمین پی سی بی نے بتایا کہ بھارتی کرکٹ بورڈ کی حرکتوں پر آئی سی سی کو خط لکھا ہے، ایک اور خط لکھ رہے

آئی ایس آئی بہت طاقتور اور منظم،تمام پاکستانی جنگجو نسلوں سے! پاکستان پر کبھی قبضہ نہیں کیا جا سکتا‘ اسرائیلی تجزیہ کار کا اعتراف


تل ابیب(سی پی پی ) اسرائیل کی ایک خاتون نے پوری دنیا کے سامنے اعتراف کر لیا کہ دنیا کا کوئی بھی ملک پاکستان پر کبھی قبضہ نہیں کر سکتا ۔اسرائیلی خاتون نے اسکی وجہ بھی بتاتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی سرزمین جغرافیہ کے لحاظ سے ایسی ہے کہ اس پر کہیں پہاڑ ہیں، کہیں دریا، کہیں میدان تو کہیں گلیشئیرز اس کے علاوہ پاکستان کا بہت بڑا علاقہ صحرائی ہے۔دنیا کی کوئی فوج ایسی نہیں جو ان تمام طرح کے علاقوں میں ایک ہی وقت میں جنگ لڑ سکے۔اسرائیلی خاتون نے ایک وجہ یہ بتائی کہ تمام پاکستانی جنگجو نسلوں سے ہیں، پنجابی، پٹھان، بلوچی اور سندھی سبھی کے آباواجداد جنگجو لوگ تھے اور موجودہ نسلیں بھی وہی خون رکھتی ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ سب پاکستانی قومی اخوت کے جذبہ میں جکڑے ہوئے ہیں، پاکستانی قوم ملک کی خاطر لڑنے مرنے کو تیار ہے۔ کسی بھی بیرونی حملے کی صورت میں آنے والی فوج کو پاکستانی فوج کے ساتھ ساتھ بیس کروڑ پاکستانی عوام کا بھی سامنا کرنا پڑے گا کیوں کہ پاکستانی عوام اپنی فوج سے پیار کرتی ہے اور ہمیشہ فوج کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔خاتون نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ 1948 میں جب بھارت نے کشمیر پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تو پختونوں نے بھارتی فوج کو کشمیر کے بڑے علاقے سے نکال بھگایا۔اسرائیل سے تعلق رکھنے والی خاتون نے یہ بھی اعتراف کیا کہ پاکستان کی سب سے بڑی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی بہت طاقتور اور منظم ہے جس کی مدد سے پاکستانی فوج جو کہ دنیا کی چھٹی بڑی فوج ہے کو شکست دینا ناممکن ہے۔اس کے علاوہ پاکستان کے پاس 100 سے زیادہ ایٹم بم موجود ہیں جن کی موجودگی میں کبھی بھی پاکستان پر قبضہ نہیں کیا جا سکتا۔اسرائیلی خاتون نے پاکستان کے ناقابلِ شکست ہونے کی سب سے اہم وجہ یہ بتائی کہ پاکستان کی اساس نظریہ اسلام ہے یعنی پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے اس لیے پوری دنیا کے مسلمانوں کو پاکستان سے جذباتی وابستگی ہے اورپاکستان کے عوام اسلام کے نام پر کسی بھی حدتک جانے کو تیار ہیں اور پاکستانی اسلام کے لیے کسی بھی طرح کے حالات میں رہ سکتے ہیں۔

وزیراعظم کے شکایت سیل میں بیٹی نے باپ کیخلاف شکایت درج کروا دی،جانتے ہیں گل نیرہ نے کیا الزام عائد کیا ؟


پشاور( آن لائن )وزیراعظم عمران خان نے عوام کے مسائل کے حل کے لیے شکایت پورٹل کا افتتاح کیا تھا جس میں عام شہری اپنی شکایات درج کرواتے ہیں جن پر متعلقہ محکموں کی جانب سے ایکشن لیا جاتا ہے۔ تاہم اب عوام کی سہولت کے لیے بنائے گئے وزیراعظم شکایت سیل میں خیبرپختونخواہ سے تعلق رکھنے والی لڑکی نے اپنے والد کے خلاف ہی شکایت درج کروا دی ۔تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخواہ سے تعلق رکھنے والی لڑکی نے اپنے باپ پر کاغذات چھیننے کا الزام عائد کر دیا ہے۔ فلپائنی نژاد پاکستانی خاتون گل نیرہ نے اپنے والد پرپاسپورٹ اور شناختی کارڈ چھین کر فلپائن میں چھوڑنے کا الزام عائد کیا ۔ خاتون نے دستاویزات حاصل کرنے کے لیے وزیراعظم شکایت سیل سے رابطہ کیا ۔لڑکی کا کہنا ہے کہ میرے والد محمد گلہاب گل 20 سال قبل میری والدہ سے شادی کرکے مجھے پاکستان لائے تھے۔انہوں نے مجھے پڑھایا، لکھایا لیکن اب ان کی مرضی کے خلاف جانے پر والد نے مجھے فلپائن میں چھوڑ کر میرا پاسپورٹ اور قومی شناختی کارڈ چھین لیا ہے۔ اس حوالے سے ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ سرکاری دستاویزات پر واضح طور پر ولدیت میں محمد گلہاب گل کا نام درج ہے لیکن محمد گلہاب گل نے شکایت کنندہ کو اپنی بیٹی ماننے سے ہی انکار کردیا ہے۔خاتون کو فلپائن میں کیوں چھوڑ کر آئے والد جواب دینے سے قاصر نظر آئے تاہم متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ انہیں والدین سے اور کچھ نہیں چاہئیے انہیں بس پاکستان واپس آنا ہے۔ یاد رہے کہ گذشتہ برس اکتوبر میں وزیراعظم عمران خان نے پاکستان سٹیزن پورٹل کا افتتاح کیا تھا جس کی بدولت پاکستانی عوام براہ راست اپنی شکایات و تجاویز وزیر اعظم آفس کو بھجواتے ہیں۔متعلقہ محکموں سے عوامی شکایات کا ازالہ کروانے اور قابل عمل تجاویز پر غور کے عمل کی نگرانی وزیر اعظم آفس سے ہی کی جاتی ہے جبکہ پاکستان سیٹیزن پورٹل کی بدولت لوگ اپنے موبائل فونز میں مخصوص ایپلی کیشن کے ذریعے حکومتی اداروں تک اپنی آواز پہنچاتے ہیں۔

سابق بھارتی پائلٹ کو پاک فوج کا حسن سلوک تاحال یاد ابھینندن لوگوں میں گرا تو خوب مار پڑی، لیکن میرے ساتھ۔۔۔1971 کی جنگ کے سابق بھارتی قیدی نے اپنی بزدلی ،خوف و مکاریوں کو بیان کردیا


لاہور( آن لائن )پاک بھارت1971 کی جنگ کے گرفتار بھارتی پائلٹ آج بھی پاک فوج کے حسن سلوک، لوگوں کی مہمان نوازی کے گیت گانے پر مجبور ہے،پائلٹ نے اپنی بزدلی، خوف اور مکاریوں کو بھی بیان کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے متعدد بار بھاگنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے، ابھینندن کو تولوگوں نے خوب مارا، لیکن میں صحرا میں گراتھا۔لوگوں نے پکڑلیا، لیکن مہمان نوازی کی اور رینجرز کے حوالے کردیا، پاکستانی فوج کا کیپٹن بڑا اچھا آفیسر تھا۔ چائے پلائی اور کہا کہ اب آپ محفوظ ہاتھوں میں ہو۔سابق بھارتی ایئرکموڈور جے ایل بھرگانے بھارتی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پاک بھارت کے درمیان 1971 کی جنگ میں ایک واقعہ پیش آیا، جنگ میں بھارت کا لڑاکا طیارہ تباہ ہوگیا تھا، جبکہ پائلٹ ایجیکٹ ہوکر پاکستان کی سرزمین پر گر گیا تھا۔جس پر پاکستانی فورسز نے ان کو گرفتار کرلیا تھا۔ سابق بھارتی ایئرکموڈور جے ایل بھرگاونے بتایا کہ پاک بھارت 1971 کی جنگ 3دسمبر کو شروع ہوئی تھی اور مجھے 5دسمبر کو جنگ میں بھیجا گیا تھا۔مجھے حیدرآباد سندھ میں ٹارگٹ دیا گیا تھا، اس دوران طیارے کو زمین سے ہوائی فائر لگ گیا،میں واپس آرہا انڈیا کی طرف، حملہ کرنا توممکن نہیں تھا لیکن میرے طیارے کاپہلے ایک انجن فیل ہوا پھر دوسرا بھی فیل ہوگیا، میرے پاس ایجیکٹ کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ ابھینندن تو لوگوں کے گھیرے میں آگئے تھے، جس پر لوگوں نے اس کو خوب پٹائی کی۔میرے ساتھ ایسا کوئی واقعہ نہیں تھا۔جہاں میں اتراوہاں صحرا ہی تھا، وہاں میرے پاس کوئی آدمی نہیں تھا۔میں نے اپنا یونیفارم اتار کرسول کپڑے پہن لیے، میں بھارتی سرحد کی جانب بھاگنے لگ گیا۔لیکن مسلسل دوتین گھنٹے بھاگ بھاگ کر میرا پانی ختم ہوا، وہاں صحرا میں سانپ بھی بہت زیادہ تھے۔ڈر سے میرا حلق خشک ہوگیا تھا، مجھے ایک گائوں نظر آیا۔گائوں کے کچھ لوگ مجھے پکڑ کر لے گئے، انہو ں نے وہاں رینجرز کو بلاکر مجھے پکڑوا دیا۔ میں 2بار وہاں سے بھاگنے کی کوشش بھی کی لیکن ناکام رہا۔رینجرز والے مجھے اونٹوں پر بٹھا کر میلوں دور سفر کروا کے آرمی کے پاس لے گئے۔پاکستانی فوج کا کیپٹن بڑا عمدہ انسان تھا، اس نے مجھے چائے پلائی اور کہا کہ اب آپ محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔ میں پانچ دسمبر سے چلا اور نو دسمبر کو مجھے آرمی کے حوالے کیا گیا۔ وہ مجھے کراچی لے گئے، کراچی میں ہمارے اور بھی 2 پائلٹ پکڑے ہوئے تھے۔وہاں سے ہمیں راولپنڈی منتقل کردیا گیا۔وہاں سے ہم نے بھاگنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ تاہم دسمبر1972 میں ہمیں چھ سو جوانوں ،پائلٹس اور افسران کورہا کرکے بھارت کے حوالے کردیا گیا۔

کس ملک کے باشندے پاکستانی شہریت کے حصول میں سب سے آگے رہے؟جان کر آپ کو بھی شدید حیرت ہوگی


اسلام آباد(اے این این ) گزشتۃ 10 برسوں کے دوران پاکستان کی شہریت لینے والے غیر ملکیوں میں بھارتی شہری سب سے زیادہ ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ 10 برسوں کے دوران پاکستان نے مجموعی طور پر 635 غیرملکیوں کوشہریت دی اور پاکستانی شہریت حاصل کرنے والے غیر ملکیوں میں سب سے زیادہ بھارت کے شہری ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 10 برسوں میں بھارت کے 461 باشندوں نے پاکستانی شہریت حاصل کی۔پاکستان کی شہریت حاصل کرنے والے غیرملکیوں میں 43 باشندوں کیساتھ افغانستان جب کہ 22 باشندوں کے ساتھ سری لنکا تیسرے نمبر پر رہا ہے۔ پاکستان کے دوست ملک چین کے صرف 4 باشندوں نے پاکستانی شہریت حاصل کی ہے۔اس کے علاوہ آسٹریلیا ،آزربائیجان ، کمبوڈیا ، عرا ق ، اٹلی ، میانمار ، نیپال ، صومالیہ ، سنگا پور ، ترکی ، شام ،ازبکستان ، کویت، کینیا اور دیگرممالک کے باشندوں نے بھی پاکستانی شہریت حاصل کی۔

جرمنی جانے کے خواہشمند پاکستانیوں سے درخواستیں طلب


اسلام آباد (این این آئی) جرمنی میں منعقد ہونے والی سات روزہ عالمی تجارتی نمائش ’’ایگری ٹیکنیکا‘‘ میں شرکت کیلئے 25 مارچ 2019ء تک درخواستیں طلب کرلی گئیں ۔ ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹی ڈی اے پی) کے مطابق عالمی تجارتی میلے کا انعقاد 10 تا 16 نومبر 2019 کو ہینوور جرمنی میں ہوگا جس میں زرعی مشینری ، آلاتاور فاضل پرزہ جات وغیرہ تیار و برآمد کرنے والے ادارے شرکت کے ذریعے اپنی مصنوعات کی نمائش اور عالمی خریداروں سے کاروباری معاملات طے کرسکیں گے جس سے قومی برآمدات کے فروغ میں مدد ملے گی۔ عالمی تجارتی میلے میں شرکت کے حوالے سے مزید تفصیلات اتھارٹی کی ویب سائٹ سے بھی حاصل کی جاسکتی ہیں۔