Saturday, 16 March 2019

کرائسٹ چرج کی مساجد پر حملہ کس ملک کے شہریوں نے کیا ، نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے تصدیق کر دی


کرائسٹ چرچ(اے این این )نیوزی لینڈ  کے   شہرکرائسٹ چرچ  کی دو مساجد میں اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں40 سے زائد نمازیوں کو شہید کردیا گیا  ،20 سے زائد افراد زخمی  ہیں ، پولیس نے حملہ آور کو گرفتار کر لیا ،نمازیوں کے قتل عام کرنے والا قاتل کی شناخت برنٹن ٹرنٹ کے نام سے ہوئی، اس نے قتل عام کی دلخراش واردت پندرہ منٹ تک فیس بک پر نشر کی۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق  کرائسٹ چرچ کے کمشنر مائیک بش نے بتایا کہ ہماری معلومات کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں ہلاکتیں  شاہراہ لینووڈ پر واقع مسجد میں ہوئیں،مسجد النور کرائسٹ چرچ کے ہیگلی پارک کے قریب ڈین ایونیو پر واقع ہے۔فائرنگ کا دوسرا واقعہ لنوڈ ایونیو کی مسجد میں پیش آیا جہاں فائرنگ سے 10 افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں۔
پولیس کے مطابق 4 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جب کہ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جسینڈا آرڈرن نے میڈیا کو واقعے سے متعلق بریفنگ کے دوران تصدیق کی کہ مساجد پر باقاعدہ منصوبہ بندی سے حملے کیے گئے جو دہشتگردی ہے جس میں 40 افراد جاں بحق ہوئے۔وزیر اعظم نیوزی لینڈ نے مسجد میں فائرنگ کے واقعے کے حوالے سے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ یہ نیوزی لینڈ کا سیاہ ترین دن ہے، مساجد پر باقاعدہ منصوبہ بندی کے ذریعے حملہ کیا گیا، جس کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔انہوں نے تصدیق کی کہ کرائسٹ چرچ کی مساجد میں فائرنگ کرنے والا حملہ آور آسٹریلوی باشندہ ہے، حملہ آور دائیں بازو سے تعلق رکھنے والا انتہا پسند اور متشدد دہشت گرد ہے۔وزیراعظم نیوزی لینڈ نے کہا کہ زیر حراست افراد سے تفتیش جاری ہے، مسجد پر حملہ کرنے والے دہشت گرد واچ لسٹ میں شامل نہیں تھے۔انہوں نے کہا کہ مساجد پر حملہ دہشت گردی کا واقعہ ہے، شہریوں سے درخواست ہے کہ سیکیورٹی اداروں کی ہدایات پرعمل کریں۔جیکینڈا آرڈرن نے اس عزم کا اظہارکیا کہ وا قعے کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا، نیوزی لینڈ ایک پرامن اور دہشت گردی کے خلاف ملک ہے، آج کے واقعے سے پہنچنے والی تکلیف کو بھلانا ناممکن ہے۔انہوں نے کہاکہ النور مسجد میں فائرنگ اور اس کی ویڈیو بنانے والے حملہ آور سے متعلق بتایا جاتا ہے کہ وہ 28 سالہ آسٹریلوی شہری ہے تاہم پولیس کی جانب سے اس کی مزید تفصیلات  جاری نہیں کی گئیں۔ آسٹریلوی وزیراعظم نے حملہ آور کے آسٹریلوی شہری ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ حملہ آور دائیں بازو سے تعلق رکھنے والا انتہا پسند اور متشدد دہشتگرد ہے جس نے مسجد پر فائرنگ کر کے کئی معصوم انسانی جانوں کو ختم کیا جس کی بھرپور مذمت کرتا ہوں۔عینی شاہدین نے واقعہ کی کوریج کرنے والے ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ حملہ آور نے فوجی وردی سے ملتا جلتا لباس پہن رکھا تھا۔ اس کے ہاتھ میں خودکار بندوق تھی جس سے وہ مسجد النور میں اندھا دھند نمازیوں پر فائرنگ کرتا رہا۔پولیس حکام کے مطابق اب تک چار افراد، جن میں ایک عورت بھی شامل ہے، کو اب تک حراست میں لیا جا چکا ہے اورحملہ آور کو بھی گرفتار کرلیا گیا ۔پولیس نے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ جائے وقوعہ کے قریبی علاقوں سے دور رہیں، جبکہ اردگرد کے تمام سکول اور ہسپتال بند کر دیے گئے ہیں۔عینی شاہدین نے بتایا کہ حملہ   نماز کے دوران کیا گیا اور وہ حملہ آور سے اپنی جان بچا کر بھاگے۔ایک غیر مصدقہ ویڈیو بھی منظر عام پر آئی ہے جو مبینہ طور پر حملہ آور کی بنائی ہوئی ہے۔ اس میں اسے لوگوں پر فائرنگ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔موہن ابراہیم حملے کے دوران اسی علاقے میں تھے۔ انھوں نے نیوزی لینڈ ہیرلڈ کو بتایا پہلے ہمیں لگا کہ کوئی بجلی کا جھٹکا ہے، لیکن پھر سب لوگ بھاگنے لگے۔
میرے دوست ابھی تک اندر  تھے ،میں اپنے دوستوں سے فون پر رابطہ کرنے کی کوشش کر  تا رہا لیکن ابھی بھی کئی لوگوں سے رابطہ نہیں ہوا۔ میں ان کے لیے بہت فکر مند ہوں۔کرائسٹ چرچ کی مسجد النور میں موجود عینی شاہدین نے بتایا کہ انھوں نے مسجد کی عمارت کے باہر زخمی لوگوں کو زمین پر لیٹا دیکھا ہے، لیکن پولیس یا مقامی انتظامیہ نے اس خبر کی ابھی تک تصدیق نہیں کی۔مسجد النور میں موجود عینی شاہد عوام علی نے حملے کا آنکھوں دیکھا حال بیان کرتے ہوئے ریڈیو نیوزی لینڈ کو بتایا اس شخص نے فائر کرنا شروع کر دیا، ہم سب نے بس بچنے کے لیے پناہ لی۔جب ہمیں گولیاں چلنے کی آواز آنا رک گئی تو ہم کھڑے ہوئے اور ظاہر ہے کچھ
لوگ مسجد سے باہر بھاگ گئے۔ جب وہ واپس آئے تو وہ خون سے لت پت تھے۔ ان میں سے چند لوگوں کو گولیاں لگیں تھیں اور تقریبا پانچ منٹ بعد پولیس موقعے پر پہنچ گئی اور وہ ہمیں باحفاظت باہر لے آئے۔پولیس نے نزدیکی کیتھیڈرل سکوائر بھی خالی کروا لیا ہے، جہاں پر ہزاروں بچے موسمیاتی تبدیلی کے سلسلے میں ریلی نکال رہے تھے۔پولیس نے ہدایات دی ہیں کہ کرائسٹ چرچ کے رہائشی تا حکم ثانی اپنے اپنے گھروں کے اندر رہیں اور باہر نکلنے سے گریز کریں۔ اسی طرح شہر کے سکول بھی بند کر دیے گئے ہیں۔نیوزی لینڈ کے دورہ پر آئی بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی تمیم اقبال نے ایک ٹویٹ میں بتایا کہ پوری ٹیم جان بچا کر نکلنے میں
کامیاب ہوگئی۔ٹیم کی کورریج کرنے والے ایک رپورٹر نے ٹویٹ کی کہ ٹیم کے ارکان ہیگلی پارک کے قریب واقع اس مسجد سے بچ کر نکلے ہیں جہاں پر حملہ آور موجود ہیں۔بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے ترجمان جلال یونس کا کہنا ہے کہ ٹیم کے زیادہ تر کھلاڑی بس کے ذریعے سے مسجد گئے تھے اور اس وقت مسجد کے اندر جانے والے تھے جب یہ واقعہ پیش آیا۔انھوں نے اے ایف پی نیوز ایجنسی کو بتایا وہ محفوظ ہیں۔ لیکن وہ صدمے میں ہیں۔ ہم نے ٹیم سے کہا ہے کہ وہ ہوٹل میں ہی رہیں۔وزیرِ اعظم جاسنڈا آرڈرن نے اسے نیوزی لینڈ کی تاریخ کا سیاہ ترین دن قرار دیا ہے۔بنگلادیشی کرکٹر مشفق الرحیم نے اپنے ٹوئٹر بیان میں کہا کہ کرائسٹ چرچ کی مسجد میں فائرنگ ہوئی تاہم الحمد اللہ، اللہ نے ہمیں محفوظ رکھا، ہم بہت زیادہ خوش نصیب ہیں، دوبارہ اس طرح نہیں دیکھنا چاہتے، ہمارے لیے دعا کریں۔