Monday, 29 April 2019

پریس کانفرنس میں بتایا 2 بھارتی پائلٹ گرفتار ہوئے ہیں لیکن پھرایک پائلٹ کی ٹویٹ کیوں کی؟ترجمان پاک فوج نے بالآخر 2ماہ بعدحقیقت سے پردہ اٹھا دیا


اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)27 فروری2019 کو بھارتی طیارے گرائے جانے کے بعد پریس کانفرنس میں 2 بھارتی پائلٹس کا ذکر کیا اور پھر ٹویٹ کر کے ایک پائلٹ کا کیوں کہا؟ترجمان پاک فوج نے وضاحت کردی ۔میجر جنرل آصف غفور نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جب اس طرح کا جنگی ماحول پیدا ہو تو زمین سے معلومات موصول ہوتی ہیں۔اگر آپ ایک جانب کھڑے ہیں اور طیارہ تباہ ہونے کے بعد پائلٹ نے ایجیکٹ کیا ہے تو آپ کہیں گے کہ پائلٹ نظر آیا اور ایسا ہی کسی اور جگہ کھڑا شخص بھی کہے گا اور یوں معلومات موصول ہوتی ہیں۔میں نے پریس کانفرنس میں دو پائلٹس کا ذکر رپورٹ کی بنیاد پر کہا تھا کیونکہ پریس کانفرنس میں آنے سے پہلے ایک پائلٹ کی اطلاع تھی اور پھر میڈیا اور دیگر رپورٹس میں دو پائلٹس کی بات ہونے لگی اور میں نے بھی سوچا کہ شاید 2 ہی ہوں کیونکہ جہاز بھی 2 گرائے گئے تھے۔پریس کانفرنس کرنے کے بعد جب میں واپس گیا تو اس وقت تک رپورٹس کلیئر ہو چکی تھیں اور پھر میں نے اس حوالے سے تصدیق تو معلوم ہوا کہ پائلٹ ایک ہی تھا مگر دو مختلف جگہ سے رپورٹ ہونے کے باعث یہ ابہام پیدا ہوا۔ پریس کانفرنس میں دو پائلٹس والی بات تو مان لی گئی لیکن بعد میں کی جانے والی ٹویٹ کو نہیں مانا جا رہا، حالانکہ وہ بات بھی تو میں نے ہی کی ہے۔ترجمان پاک فوج نےمزید کہا ہے کہ 2 مہینے ہو گئے بھارت ان گنت جھوٹ بولے جارہا ہے ،28فروری کو بھارت نے کتنی گن پوزیشن تبدیل کی وہ بھی اپنے عوام کو بتائے ۔بھارت کچھ کرنا چاہتا ہے تو پہلے نوشہرہ سٹرائیک اور بھارتی جہازوں کے گرنے کا حساب ذہن میں رکھے ۔بھارتی میڈیا جا کر دیکھے کہاں کہاں میزائل گرائے تھے۔بھارت اپنا میڈیا پاکستان بھیج دے ہم انہیں سہولیات دینگے پاکستان نے بھارت کے روپے میں تبدیلی ڈال دی ، لیکن ہمارا رویہ تبدیل نہیں ہوسکتا ۔ اگر 1971میں آج کا میڈیا ہوتا تو بھارتی حالات بے نقاب کرتا تو مشرقی پاکستان علیحدہ نہیں ہوتا،جب بات ملکی دفاع اور سلامتی کی ہو تو پاکستان ہر قسم کی صلاحیت اپنائے گا۔