Tuesday, 4 June 2019

واٹس ایپ میں 2020سے اشتہارات متعارف کرائے جائیں‌ گے، فیس بک کی تصدیق

نیویارک (این ین آئی)دنیا کی مقبول ترین مسیجنگ اپلیکشن واٹس ایپ اب زیادہ عرصہ اشتہارات سے پاک نہیں رہے گی۔فیس بک نے تصدیق کی ہے کہ 2020 سے اس کی زیرملکیت ایپ میں اشتہارات اسٹیٹس کے سیکشن میں نظر آئیں گے۔میڈیارپورٹس کے مطابق سوشل میڈیا نیٹ ورک کی جانب سے یہ اعلان فیس بک کیسالانہ مارکیٹنگ کانفرنس میں کیا گیا جس کا انعقاد گزشتہ دنوں نیدرلینڈ میں ہوا۔کانفرنس میں موجود بی کنکٹ ڈیجیٹل مارکیٹنگ ایجنسی کے اولیور پونٹے ویلی نے مختلف ٹوئیٹس میں تصاویر پوسٹ کیں جن میں دکھایا گیا کہ اس ایپ میں اشتہارات کس طرح نظر آئیں گے۔واٹس ایپ کے نائب صدر کرس ڈینیئل نے کئی ماہ قبل ہی اس بات کی تصدیق کردی تھی کہ اشتہارات کی اس اپلیکشن میں آمد ہورہی ہے تو یہ نئی پیشرفت حیران کن نہیں۔درحقیقت یہ زیادہ حیران کن ہے کہ اب تک آئی او ایس اور اینڈرائیڈ پر اشتہارات دکھانے کا سلسلہ شروع کیوں نہیں ہوا کیونکہ پہلے 2019 کے بارے میں کہا جارہا تھا کہ اس سال اشتہارات اس ایپ کا حصہ بنیں گے۔اکتوبر 2018 میں واٹس ایپ کے نائب صدر کا کہنا تھا کہ کمپنی اس سروس کے ذریعے پیسے کمانے کے لیے تیار ہے اور کاروباری اداروں کو اشتہارات چلانے کی سہولت فراہم کی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ فیس بک واٹس ایپ سے آمدنی کے حصول کی تیاری کررہی ہے اور اس مقصد کے لیے ایپ کے اسٹیٹس سیکشن میں اشتہارات دکھائے جائیں گے۔انہوں نے بتایا کہ فیس بک واٹس ایپ فار بزنس ایپ سے بھی آمدنی کے حصول کا منصوبہ تیار کررہی ہے جو کہ فی الحال کاروباری اداروں کے لیے مفت ہے۔فیس بک کی جانب سے کاروباری اداروں سے اس پلیٹ فارم میں اشتہارات دکھانے کے عوض فیس لی جائے گی اور یہ اشتہارات واٹس ایپ میں کمپنیوں کی پروفائل سے لنک ہوں گے۔

تحریک انصا ف سے ناراض فواد چوہدری نے کس پارٹی سے رابطہ کر لیا؟ حیرت انگیز دعویٰ کردیا گیا

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما نبیل گبول نے کہاہے کہ ناراض فواد چوہدری کا پیپلزپارٹی سے رابطہ ہوا ہے۔ایک انٹرویومیں نبیل گبول نے عویٰ کرتے ہوئے کہا کہ فردوس عاشق اعوان نے ان کی جگہ لے لی ہے جس پر وفاقی وزیر سائنس ٹیکنالوجی فواد چوہدری خوش نہیں ہیں۔نبیل گبول نے کہا کہ مچھلی تالاب کے بغیر اور جیالا پیپلزپارٹی کے بغیر نہیں رہ

مکہ میں پاکستان کشمیر کا مقدمہ ہار گیا، میں مکہ سے جھکی جھکی نظروں کے ساتھ واپس آیا، ”او آئی سی“ اجلاس میں کیا ہوا؟ حامد میر کے افسوسناک انکشافات


اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) معروف صحافی حامد میر نے او آئی سی سمٹ کو پاکستان کی شکست قرار دے دیا، سینئر صحافی حامد میر نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ عمران خان نے مکہ میں تقریر تو بہت اچھی کی لیکن اعلان مکہ سے کشمیر کا غائب ہو جانا پاکستان کے لیے ایک بڑا سفارتی دھچکا ہے مکہ میں پاکستان کشمیر کا مقدمہ ہار گیا میں مکہ سے جھکی جھکی نظروں کے ساتھ واپس آیا ہوں البتہ وزیراعظم صاحب کی نظریں میں نہیں دیکھ سکا۔ ایک نجی ٹی وی چینل نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ 27 رمضانکو مکہ مکرمہ میں ہونے والی او آئی سی کانفرنس میں کشمیر کا ذکر نہیں ہے،کیا یہ پاکستان کی وزارت خارجہ کی ناکامی نہیں ہے، بھارت او آئی سی کا رکن نہیں لیکن کانفرنس میں صحافیوں کی موجودگی بھی ایک سوالیہ نشان ہے، رپورٹ میں کہاگیا کہ کچھ پاکستانی اخبارات نے لکھا ہے کہ اعلان مکہ میں مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی روشنی میں حل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ معروف صحافی حامد میر کا کہنا ہے کہ اعلان مکہ میں کشمیر کا ذکر ہی نہیں ہے، انہوں نے پورا متن بھی ٹویٹ کیا ہے۔

امریکہ نے ایران کے آگے گھٹنے ٹیک دئیے ،ایسا اعلان کردیا کہ پوری دنیا حیران رہ گئی


بیلینزونا (آن لائن )امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ کوئی شرط عائد کیے بغیر اس کے جوہری پروگرام کے بارے میں مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ امریکی وزیرِ خارجہ مائک پومپیو نے سوئٹزرلینڈ کے شہر بیلینزونا میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران ایران سے مذاکرات کی بات کی تاہم انھوں نے کہا کہ امریکہ یہ دیکھنا چاہتا ہےکہ ایران ایک معمول کے ملک کی طرح کا رویہ اختیار کر رہا ہے۔اس پریس کانفرنس میں امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو کے ہمراہ سوئٹزر لینڈ کے وزیرِ خارجہ انگازیو کاسِس بھی تھے۔ایران کے صدر حسن روحانی نے اتوار کی صبح کہا تھا کہ ایران امریکہ سے بات چیت کرنے کے لیے تیار ہو سکتا ہے بشرطیکہ امریکہ ایران کی عزت کرے، لیکن ایران مذاکرت کسی دباؤ میں آکر نہیں کرے گا۔جب مائیک پومپیو سے حسن روحانی کے بیان پر ردعمل پوچھا گیا تو بظاہر نرم لہجہ اختیار کرتے ہوئے مائک پومپیو نے کہا کہ 'ہم بغیر کسی شرط کے بات چیت کے لیے تیار ہیں، ہم اکٹھا بیٹھنے کے لیے تیار ہیں۔'تاہم انہوں نے حزب اللہ اور شامی حکومت کی مدد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایران کو مشرقِ وْسطیٰ میں مجرمانہ سرگرمیاں دوبارہ سے شروع کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔پومپیو نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ تو کافی عرصے سے کہہ رہے ہیں کہ وہ ایران سے بات چیت کے لیے تیار ہیں۔'ہم یقیناً بات چیت کرنے کے لیے تیار ہیں جب ایرانی یہ ثابت کردیں گے کہ وہ ایک عام قوم جیسا رویہ اختیار کرنا چاہتے ہیں۔'صدر ٹرمپ نے گزشتہ سوموار کہا تھا کہ وہ ایران سے بات چیت کے لیے مذاکرات کے میز پر بیٹھنے کیلیے تیار ہیں۔لیکن ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے گزشتہ ہفتے بدھ کو کہا تھا کہ ایران امریکہ سے مذاکرات نہیں کرے گا باوجود اس کے کہ حسن روحانی نے بات چیت کا اشارہ دیا تھا بشرطیکہ ایران سے پابندیاں ہٹا لی جائیں۔سوئٹزرلینڈ کے وزیرِ خارجہ کاسِس نے اس موقعہ پر کہا تھا کہ ایرانی عوام ایران پر پابندیوں کی وجہ سے تکلیف میں ہیں اور سوئٹزر لینڈ ایک غیر جانبدار ملک ہوتے ہوئے چاہتا ہے کہ ایرانی عوام کو انسانی بنیادوں پر ضروری اشیا خاص کر 'ادویات اور خوراک' مہیا کرنے کی اجازت ہونی چاہئیے۔انھوں نے کہا کہ ایران کو اناشیا کو خریدنے کے لیے ادائیگیاں کرنی ہوں گی اور یہ اْسی وقت ممکن ہے جب امریکہ بینکوں کو ایسی ادائگیاں کرنے کی اجازت دے گا۔کاسِس نے کہا کہ انھیں یقین ہے کہ امریکی جلد ہی اس مسئلے کو طے کرنے کے لیے'ممکنہ طور پر بہترین حل' پیش کرے گا۔گزشتہ برس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام کو رکوانے کے لیے مشترکہ جامع معاہدہ عمل سے یکطرفہ طور پر دستبردار ہونے کا اعلان کر دیا تھا۔اس کے بعد امریکہ نے ایران پر خطہ میں عدم استحکام پھیلانے کا الزام عائد کیا اور ساتھ ہی امریکی بحریہ کے طیارہ بردار جہاز کو خلیج فارس کی جانب روانہ کردیا اور بی 52 بمبار طیاروں کو قطر کے ہوائی اڈّے پر تعینات کر دیا۔اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے نگراں ادارے آئی اے ای اے نے حال ہی میں کہا ہے کہ ایران سنہ 2015 میں ہونے والے جوہری پروگرام کو روکنے والی عالمی معاہدے کے بعد سے اپنے اوپرعائد ہونے والی پابندیوں پر سختی سے عمل کرتا چلا آرہا ہے۔آئی اے ای اے کی یہ رپورٹ ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ایران نے یہ دھمکی دی ہے کہ وہ امریکہ کی جانب سے عائد ہونے والی نئی پابندیوں کی وجہ سے اس معاہدے کی شرائط توڑنے جا رہا ہے۔امریکی وزیرِ خارجہ نے آئی اے ای اے کی تازہ رپورٹ پر سوئٹزر لینڈ کی پریس کانفرسن میں کچھ کہنے سے گریز کیا ہے۔البتہ انھوں نے یہ کہا کہ واشنگٹن آئی اے ای اے کی رپورٹ کا بغور جائزہ لے رہا ہے اور ساتھ ہی انھوں نے مزید کہا کہ 'ہمارے اپنے آزاد ذرائع ہیں جن سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کیا ہو رہا ہے۔

اعلیٰ ججز کے خلاف ریفرنس، مزید انکشافات سامنے آگئے


اسلام آباد(سی پی پی)اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے خلاف ریفرنس کے معاملے پر مزید دلچسپ انکشافات سامنے آ گئے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے سندھ ہائیکورٹ نے پہلی بار 2018 میں اپنی غیر ملکی جائیدادیں ظاہر کیں لیکن ان اثاثوں کی مالیت کا نہیں بتایا گیا ۔حکو متی رکن نے انکشاف کیا کہ ایسٹس ریکوری یونٹ (اے آر یو)اور ایف بی آر کی رپورٹ پر سپریم کورٹ اور سندھ ہائیکورٹ دونوں کے ججز کے خلاف ریفرنس بنایا گیا۔ 10اپریل کو اے آر یو کو عبدالوحید ڈوگر کی جانب سے شکایات موصول ہوئی کہ جسٹس کے کے آغا اور 2دیگر ججز بیرون ملک پراپرٹی کی ملکیت رکھتے ہیں۔وفاقی حکومت نے ایف بی آر کی رپورٹ شکایت کے ساتھ منسلک کی ۔رپورٹ کے مطابق جس کے مطابق جسٹس آغا نے چوبیس نومبر 2005 کو کیلورٹ کلوز بیلویڈر کینٹ میں پراپرٹی نمبر 17 کو شراکت داری کے ساتھ خریدا۔ جبکہ ٹیکس ایئر 2018 کے اختتام تک اپنی ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں اسے ظاہر نہ کیا۔ اور جب پراپرٹی کا اعلان بھی کیا گیا تو قیمت نہیں بتائی گئی ۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ سندھ ہائیکورٹ کے جج نے 2005 سے 2014تک ٹیکس ڈیکلیئریشن فائل نہیں کئے۔ وہ پانچ مارچ 2014 کو ایف بی آر میں رجسٹرڈ ہوئے۔انھوں نے ٹیکس ایئرز 2015،2016 اور 2017 میں اپنے ٹیکس ڈیکلیئریشن فائل کئے۔ لیکن پراپرٹی کو ظاہر نہیں کیا۔ایف بی آر رپورٹ کے مطابق جسٹس آغا نے برطانیہ میں کیرویا کلوز ڈیٹفور میں پراپرٹی نمبر 40بھی خریدی ، دوہزار اٹھارہ کی ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں اسے ظاہر کیا لیکن قیمت نہ بتائی۔وہ برطانیہ کے لوئیڈ بینک میں اکائونٹ بھی رکھتے ہیں جو انھوں نے ٹیکس ایئر 2018میں ظاہر کیا لیکن اس اکائونٹ میں کتنی رقم ہے یہ نہیں بتایا۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سندھ ہائیکورٹ کے جج دہری شہریت رکھتے ہیں اور وہ دوہزار چار سے اب تک اپنے غیرملکی چونسٹھ دوروں میں پاکستانی اور برطانوی پاسپورٹ دونوں کو استعمال کرتے رہے ہیں۔